Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
424 - 691
 سے ایک ایسے شیر کو محروم کردیں جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول کی حمایت اور تحفظ کی جنگ لڑاہو۔‘‘ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’صَدَقَ یعنی ابوبکر نے سچ کہا۔‘‘سیدنا ابوقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سامان کے عوض ایک باغ خریدا۔ یہ میری پہلی جائیداد تھی جو میں نے دور اسلام میں حاصل کی۔
(صحیح البخاری، کتاب المغازی، قول اللہ تعالی۔۔۔الخ، الحدیث: ۴۳۲۲، ج۳، ص۱۱۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس واقعے میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی موجودگی میں سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا گفتگو کرنا اور قسم اٹھانے میں سبقت کرنا اور پھر اس سے بڑھ کر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا آپ کی گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے آپ کی کہی ہوئی بات کے مطابق فیصلہ صادر فرمانا درحقیقت آپ کا ہی شرف اور خصوصیت ہے۔
مسائل شرعیہ میں اجتہاد
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں ایک مقدمہ پیش ہوا آپ نے اس کا فیصلہ کرنے کے لیے کتاب اللہ میں اس کی اصل نہ پائی نہ ہی رسول اللہکی سنت میں کوئی دلیل پائی توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’ میں اپنی رائے سے اجتہاد کرتاہوں، اگر یہ درست ہوتو اللہ کی طرف سے اور اگریہ غلط ہوتو میری طرف سے ہوگا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّسے مغفرت طلب کرتا ہوں۔‘‘ 		   (الطبقات الکبری لابن سعد، ذکر الغار والھجرۃ الی المدینۃ، ج۳، ص۱۳۲)
تقدیر کے معترض پرسرزنش
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک نوجوان حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں مسئلہ پوچھنے آیا اور اس نے تقدیر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا:’’آپ کا کیا خیال ہے جب کوئی