Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
423 - 691
اور اس نے مجھے دبا کر اتنی زور سے بھینچا کہ مجھے اپنی موت کا خطرہ لاحق ہوگیا۔‘‘ بہرحال جیسے ہی اس کی گرفت ڈھیلی پڑی تو میں نے اسے پرے دھکیل دیا اور اسے قتل کردیا۔ اسی دوران مسلمانوں کے لشکر میں سراسیمگی پھیل گئی لیکن میں نے دیکھا کہ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا :’’مَا بَالُ النَّاسِیعنی لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟‘‘ تو انہوں نے جواب دیا:’’اَمْرُ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّیعنی یہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فیصلہ ہے۔‘‘ بہرحال جنگ کے بعد تمام لوگ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس جمع ہوگئے تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُیعنی جو شخص اس بات کا ثبوت فراہم کردے کہ فلاں کافر مقتول کو اس نے قتل کیا ہے تومقتول کاساز وسامان اسی کو ملے گا۔‘‘میں اپنے ہاتھوں قتل ہونے والے کافر پر کسی کی گواہی لینے کے لیے کھڑا ہوا اور کہا : ’’مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ہے کوئی جو میرے اس قتل کی گواہی دے۔‘‘لیکن کوئی بھی کھڑا نہ ہوا، تو میں بیٹھ گیا۔سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوبارہ وہی ارشاد فرمایاتو میں پھر کھڑا ہوا لیکن اس بار بھی میری گواہی دینے کے لیے کوئی نہ اٹھا، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تیسری بار پھر وہی ارشاد فرمایا تو میں ایک مرتبہ پھر اٹھا لیکن اس بار بھی کوئی گواہ نہ اٹھا۔ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میری طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: ’’مَا لَكَ يَا اَبَا قَتَادَةَیعنی اے ابو قتادہ! کیا بات ہے تم تیسری بار کھڑے ہورہے ہو؟ ‘‘ میں نے بارگاہ رسالت میں سارا ماجرا عرض کردیا۔ میری گفتگو سن کر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کہا:’’ ابو قتادہ سچ کہہ رہے ہیں اور جس شخص کو قتل کرنے کی بات کررہے ہیں اس کا سامان اور اسلحہ میرے پاس ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمابو قتادہ کو اپنی طرف سے کچھ دے کر میری طرف سے راضی کردیں اور یہ سامان مجھے دلوا دیں۔‘‘ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فیصلہ کن لہجے میں فرمایا: ’’لَاهَا اللّٰهِ  اِذًا لَا يَعْمِدُٔالٰی اَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللّٰهِ يُقَاتِلُ عَنْ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُعْطِيَكَ سَلَبَهُیعنی ایسا ہرگزنہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکے شیروں میں