میں اس کا حکم تلاش کرتے، اگراحادیث میں کوئی حکم مل جاتا تو اس کے مطابق فیصلہ فرمادیتےورنہ اجماع سے استدلال کرنے کے لیے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مشاورت فرماتے اور پوچھتے کہ مجھے یہ یہ مسئلہ درپیش ہے کیا آپ میں سے کسی کومعلوم ہے کہ اس کے متعلق پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کیا فیصلہ فرمایاہے؟بعض اوقات آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس لوگوں کا ایک قافلہ آتا اور عرض کرتا کہ اس معاملے میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس طرح فیصلہ فرمایاہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہیہ سن کر ارشاد فرماتے : ’’تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے ہیں جس نے ہم میں ایسے لوگ پیدا فرمائے جو نبیٔ کریم، رؤفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرامین کو یاد رکھتے ہیں۔ الغرض متعلقہ مسئلے میں کسی سے اگرکوئی بھی حدیث مل جاتی تواس کے مطابق فیصلہ فرمادیتے اور اگر اس طرح مسئلہ حل نہ ہوتا تو صحابۂ کرام کو اکھٹا کرتے اور مشاورت سے جوبات طے ہوجاتی اس کے مطابق فیصلہ فرمادیتے۔‘‘
(سنن الدارمی، باب الفتیا وما فیہ من الشدۃ، الحدیث:۱۶۱، ج۱، ص۷۰)
رسول اللہ کی موجودگی میں فیصلہ کن رائے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ سعادت بھی حاصل تھی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی موجودگی میں بھی لوگوں سے خطاب کیا کرتے تھےاور مختلف مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے اور کئی معاملات میں آپ کے قول پر ہی فیصلہ ہوتا تھا یعنی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی آپ ہی کے قول کی حمایت فرمایا کرتے تھے ۔ایسا ہی ایک واقعہ غزوہ حنین کے موقع پر بھی پیش آیا۔چنانچہ،حضرت سیدنا ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن میں نے ایک مسلمان کو دیکھا جو ایک مشرک سے نبرد آزما تھا مسلمان کے پیچھے سے ایک دوسرے مشرک نے آکر اسے دھوکے سے قتل کرنا چاہا۔ یہ صورت حال دیکھ کر میں پیچھے سے آنے والے دھوکے باز مشرک پر تیزی سے جھپٹااور اس کی گردن کے قریب وار کیا جس سے اس کی ذرع کٹ گئی۔وَاَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِیعنی وہ مشرک میری طرف پلٹا