صدیق اکبر کا انداز خلافت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا طرز خلافت نہایت ہی سادہ تھا۔اس کے کسی گوشے میں کوئی الجھاؤ نہ تھا، وجہ یہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہاں کے لوگوں کی سمجھ بوجھ اور عقل وفکر کوہمیشہ پیش نظر رکھا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا زمانہ نبیٔ کریم ،رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانہ کے ساتھ بالکل متصل تھااور جو پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے معمولات تھے بعینہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بھی وہی معمولات تھے۔آخرت کا تصور اور اپنے اعمال کی جواب دہی کا خیال ہر وقت ان کے ذہن پر طاری رہتاتھا۔اسی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کبھی اپنے ہاتھ سے عدل وانصاف کے دامن کو نہ چھوڑا۔ بلکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے عدل وانصاف کا پیارا انداز اورآپ کے دور خلافت کی شرعی عدالت آئندہ آنے والے حکمرانوں کے لیےبہترین مشعل راہ ہے۔
صدیق اکبر کی شرعی عدالت
خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے اسلامی چیف جسٹس ہیں جولوگوں کے دینی و دنیوی معاملات میں ان کی شرعی رہنمائی کرتے نیز ان کے مختلف معاملات کے فیصلے بھی فرماتے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے فیصلہ کرنے کاانداز بہت ہی پیارا تھا۔
صدیق اکبرکےفیصلہ کرنے کا انداز
حضرت سیدنا میمون بن مہران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی شرعی عدالت میں جب کوئی فریق اپنا مقدمہ لے کر آتاتوآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفریقین کا موقف سننے کے بعد سب سے پہلے کتاب اللہ میں اس کا حکم تلاش کرتے،اگر کوئی حکم مل جاتاتو اسی کے مطابق فیصلہ فرما دیتے۔ ورنہ احادیث مبارکہ