وعدہ: (وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) (پ۱۴،الحجر:۹)’’اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔‘‘پورافرمانے کے لیے سیدنا امیرالمومنین عمربن الخطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے قلب کریم میں القافرمایا ۔ حضرت سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہ صدیقی میں عرض کی کہ:’’جنگ یمامہ میں بہت حفاظ شہید ہوئے اور میں ڈرتاہوں کہ یوں ہی قرآن متفرق پرچوں میں رہا اور حفاظ شہادت پاگئے تو بہت ساقرآن مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتارہے گا میری رائے ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجمع قرآن کاحکم فرمائیں۔‘‘سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ابتدامیں اس میں تامل ہوا کہ جو فعل حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہ کیا ہم کیونکرکریں۔ سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیاکہ اگرچہ حضورپرنورصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہ کیا مگر و ﷲ وہ کام خیرکا ہے بالآخر صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بھی ذہن بن گیااورحضرت سیدنا زیدبن ثابت انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوبلاکرکتاب اللہ کو جمع کرنے کا فرمان خلافت صادر فرمایا۔حضرت سیدنا زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوبھی وہی شبہہ ہوا کہ جو کام حضور سید الانام صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہ کیاوہ ہم کیسے کریں۔ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں وہی جواب دیاکہ اگرچہ حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہ کیا مگروﷲ وہ کام خیرکاہے۔ یہاں تک کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر وفاروق اعظم وزیدبن ثابت وجملہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اِجماع سے یہ مسئلہ طے ہوااورقرآن عظیم متفرق جگہوں سے جمع کرلیاگیااوربدمذہبوں کا یہ شبہہ جس پرآدھی بدمذہبیت کادارومدارہے کہ جو فعل حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہ کیا دوسراکیا ان سے زیادہ مصالح دین جانتاہے کہ اسے کرے گا؟صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اجماع سے مردود ہوگیا۔قرآنی سورتیں اگرچہ متفرق مواقع سے ایک مجموعہ میں مجتمع ہوگئی تھیں اور وہ مجموعہ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ،پھرسیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، پھر اُمّ المومنین سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس تھا مگر ابھی بھی اس میں تین کام باقی تھے: (۱) ان جمع کیے گئے مختلف صحائف کاایک مصحف میں نقل ہونا۔(۲) پھر اس مصحف کے نسخے کو اسلامی ممالک کے بڑے بڑے شہروں میں تقسیم کرنا۔(۳) رخصت سابقہ کی بناپرقرآن کے بعض وہ لہجے جو قرآن عظیم کے حقیقی اصل مُنَزَّل مِنَ