Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
418 - 691
 پہنچایاتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعلیم کے مطابق اسی زمانہ میں تمام آیات اپنی اپنی سورتوں میں جمع ہوگئیں۔ قرآن عظیم ۲۳برس میں متفرق آیتیں ہوکر اُترا، کسی سورت کی کچھ آیات اترتیں، پھر دوسری سورت کی آیتیں آتیں ،پھرسورت اُولی کی نازل ہوتیں، حضور پرنورسیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہربارارشاد فرماتے کہ یہ آیات فلاں سورت کی ہیں فلاں آیت کے بعد فلاں کے پہلے رکھی جائیں،اسی طرح سورہ قرآنیہ منتظم ہوتی رہیں اورخود حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سن کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اسی ترتیب پر اسے نمازوں،تلاوتوں میں پڑھتے۔قرآن عظیم صرف ایک واحد لغت قریش پرنازل ہوا، عرب میں مختلف قبائل اوران کے لہجے باہم حرکات وسکنات وبعض اجزائے کلمات میں مختلف تھے۔اور ان کے لیے فی الفوراپنی مادری لغت سے لغت قریش میںپڑھنا بہت مشکل تھا لہٰذا حضورپرنور شافع یوم النشور صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے رب سے عرض کرکے دیگر قبائل والوں کے لئے ان کے لہجوں کی رخصت لے لی تھی۔جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام ہررمضان المبارک میں جس قدر قرآن عظیم اس وقت تک اترچکاہوتا حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ اس کا دور کرتے جو یہ سنت اب تک بحمدﷲتعالیحفّاظ اہلسنّت میں باقی ہے اورقیامت تک اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ باقی رہے گی۔نزولِ قرآن کے آخری سال جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے دوبارہ صرف اصلِ لغت قریش پر جس میں قرآن مجید نازل ہواتھا حضورپرنور صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ دورکیا اور اس آخری دور(جو لغت قریش پر ہوا)سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ رخصت منسوخ اور اب صرف وہی لغت جس میں اصل نزول قرآن ہوا برقرار رہے گی۔ سورتیں اگرچہ زمانہ اقدس میں مرتب ہوچکی تھیں مگرایک جگہ جمع نہ تھیں بلکہ مختلف پرچوں، بکری کے شانوں وغیرہا میں مختلف جگہوں پر موجود تھیں البتہ اس وقت حفاظ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے مبارک سینوں میں مکمل قرآن محفوظ تھا۔حتی کہ نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا سے پردہ فرمایا۔اورخلیفۂ برحق سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانۂ خلافت میں جنگِ یمامہ واقع ہوئی جس میں بکثرت صحابۂ کرام حافظان قرآن شہید ہوئے۔تو رب کریم عَزَّ وَجَلَّ نے اپنا یہ