Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
417 - 691
پاس رہا۔ 	 (صحیح البخاری،کتاب  فضائل القرآن،باب جمع القرآن،الحدیث:۴۹۸۶،ج۳،ص۳۹۸)
سب سے زیادہ ثواب کے حق دار
حضر ت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا: ’’اَعْظَمُ النَّاسِ فِيْ الْمَصَاحِفِ أَجْراً أَ بُوْ بَكْر رَحْمَةُ اللہِ عَلَى أَبِيْ بَكْر هُوَ أَوَّلُ مَنْ جَمَعَ كِتَابَ اللہ یعنی مصاحف میں سب سے زیادہ ثواب حضرت سیدناابو بکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پررحم فرمائےکہ انہوں نے سب سے پہلے قرآن پاک کوجمع فرمایا۔‘‘					   (عمدۃ القاری ، کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن،تحت الحدیث:۴۹۸۶،  ج۱۳،  ص۵۳۴)
سب سے پہلے جامع قرآن
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا حدیث پاک میں سب سے پہلے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جامع قرآن فرمایاگیا ہےاور حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی جامع قرآن کہا جاتاہے، ان دونوں باتوں میں تطبیق اور جامع قرآن کی بہترین ونفیس تحقیق کے لیے اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت، مجدددین وملت، پروانۂ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنکا جامعِ قرآن سے متعلق ایک استفتا کے جواب میں دیے گئے  فتوے کاخلاصہ پیش خدمت ہے:
’’قرآن عظیم کا حقیقی طورپر جمع فرمانے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے کہ خود قرآن پاک میں ارشاد فرماتاہے: (اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ(۱۷)) (پ۲۹، القیامۃ: ۱۷)’’بے شک ہمارے ذمہ ہے قرآن کاجمع کرنا اورپڑھنا۔‘‘پھرجامع حقیقی یعنی رب عَزَّ وَجَلَّ   کے مظہراول واتم واکمل حضورسید المرسلین رحمۃ اللعالمین صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں۔ کیونکہ جس خوبصورت ترتیب پر آج قرآن پاک کی تمام آیات مبارکہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہیں یہی ترتیب لوح محفوظ کی ہے اورجبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے پاس قرآن پاک