Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
416 - 691
فرما تھے۔ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھےقرآن کریم کےکثیر قراءکےشہید ہونے کی اطلاع دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی مشورہ دیا کہ چونکہ کفار سے جنگوںکا سلسلہ ابھی جاری ہے اس لیے ڈر ہے کہ قراء کی کثیر تعداد شہید ہونے سے قرآن کا کچھ حصہ ضائع نہ ہو جائے، لہٰذا آپ قرآن کریم کو جمع کرنے کا حکم دیجئے۔لیکن پہلے تو میری سمجھ میں یہ بات نہ آئی کیونکہ میںوہ کام کیسے کرسکتا ہوں جو کام خودنبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہیں کیا؟بہر حال اس کام کے لیے یہ اصرارکرتے رہےیہاں تک کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرح میرا سینہ بھی اس بات کے لیے کھول دیا اور میری رائے بھی ان کی رائے کے موافق ہوگئی اور اے زید!آپ عقل مند نوجوان ہیں، ہمیں آپ میں کوئی عیب نظر نہیں آتااور آپ تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے پاس وحی لکھا کرتے تھے، اس لیے یہ عظیم کام آپ ہی کیجئے اور تمام قرآنی آیات کو مختلف جگہوں سے لے کر ایک جگہ جمع کر دیجئے۔‘‘حضرت سیدنازید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکہتے ہیں:’’ اگر مجھے پہاڑ اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھنے کا حکم دیا جاتا تویہ میرے لیے قرآن جمع کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہوتا۔اور مجھے بھی یہ کام سمجھ میں نہ آیا،اس لیے میں نے حضرت سیدناا- بوبکر صدیق و سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَادونوں کی بارگاہ میں عرض کی ’’آپ لوگ وہ کام کیسے کر سکتے ہیں جو کام خود نبیٔ کریم ،رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہیں کیا؟‘‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اس ہی میں بہتری ہے۔‘‘بہرحال اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ دونوں کی طرح میرا بھی سینہ کشادہ فرمادیا اورمیں نے پوری کوشش سے ہڈیوں، کھجور کے پتوں، سفید پتھروں پر تحریرشدہ اور لوگوں کے سینوںمیں موجود قرآن کو جمع کرنا شروع کر دیا۔ سورۂ توبہ کی آخری آیات مجھے حضرت سیدنا خذیمہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے علاوہ کسی سے نہ ملیں۔‘‘(اور یوں سار ا قر آن ایک جگہ جمع ہوگیا اس کے بعد یہ جمع کیا ہوا قرآن)حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس رہا پھر حضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس اور پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی لخت جگر اورپیاری شہزادی اُمّ المومنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے