Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
415 - 691
صدیق اکبر اور جمع قرآن
جمع قرآن کا پس منظر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قرآن مجید کا جمع کرنا بلاشبہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔جمع قرآن کا پس منظر جنگ یمامہ ہے جو مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی۔ یوں تو ارتداد کی تمام جنگیں اپنی جگہ بڑی اہمیت کی حامل تھیں لیکن جنگ یمامہ ان تمام جنگوں میں سب سے زیادہ خطرناک تھی، اس کی ایک وجہ تو مسیلمہ کذاب مرتدکا خاتمہ ہے کہ عرب میں اس وقت اس سے بڑا کوئی مرتد نہیں تھااور اِس جنگ میں اُس فتنے کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ اس جنگ کی فتح مسلمانوں کے لیے جہاں بے حد مسرت کا باعث تھی وہیں یہ جنگ مسلمانوں کے لیے سخت غم وافسوس کاریلا بھی لے کر آئی تھی کہ اس جنگ میں متعدد کبار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماور حفاظ قرآن کی بہت بڑی تعداد جام شہادت نوش کرچکی تھی اور مسلمانوں کے لیے یہ وہ نقصان تھاجس کی تلافی قطعا ًناممکن تھی۔حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بالخصوص اس بات کا بہت رنج تھا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اللہ 
عَزَّ وَجَلَّ کی عطاکردہ باطنی بصیرت سے جان لیا کہ جنگوں کا سلسلہ تو ابھی جاری ہے اور جنگ یمامہ کی طرح اگلی جنگوں میں بھی حفاظِ قرآن کی شہادت کا سلسلہ جاری رہا تو قرآنِ پاک ہمارے ہاتھوں سے جاتا رہے گا۔اس لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جمع قرآن کا مشورہ دیا جسے صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قبول فرمالیا۔چنانچہ،
جمع قرآ  ن اور اس کےمتعلق مشاورت
حضرت سیدنازید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جنگ یمامہ کے دنوں میں مجھے بلوایاجب میں حاضر ہواتو حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی وہاں تشریف