مسلمانوں کو کثیر مال غنیمت حاصل ہوا اور دشمن کا بہت سارا اسلحہ بھی مسلمانوں کے قبضے میں آیا، یہ جنگ اگرچہ زیادہ دیر جاری نہ رہی لیکن نتیجے کے اعتبار سے مسلمانوں کے لیے بہت مفید رہی۔ (الکامل فی التاریخ،ج۲، ص۲۶۵ ملتقطا)
فیضان حیات صدیق اکبر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے عہد خلافت میں منکرین زکوۃ ومرتدین کے خلاف نیز عراق اور شام کی جو جنگیں لڑی گئیں وہ بلا شبہ دور اسلامی کی فیصلہ کن جنگیں تھیں، ان جنگوں کے سلسلے میں اگر خلیفہ وقت کی طرف سے ذرہ برابر بھی لچک کا مظاہرہ کیا جاتا اور فوری طور پر ان سے نمٹنے کی کوشش نہ کی جاتی یا ان جنگوں میں مخالفین کا پلڑا بھاری ہو جاتا اور مسلمانوں میں کم زوری کے آثارپیدا ہوجاتے توسلطنت اسلام کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ثابت قدمی کی نعمت عظمیٰ سے نوازااور ان کے دل میں یہ بات راسخ فرمادی کہ اسلام کے چھوٹے سے چھوٹے حکم کا تحفظ بھی ضروری ہے اور جو راہیں اس کے خلاف جاتی ہیں وہ چھوٹی ہوں یا بڑی، انہیں پوری طاقت کے ساتھ بند کردینا خلیفۂ وقت کے فرائض میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جس عزم واستقلال کے ساتھ یہ معرکے سر کیے، جس ہمت وجرأت سے مخالفین اسلام کا قلع قمع کیا اور جس دانش مندی وحکمت عملی سے عملی منصوبے بنائے، اس کی کوئی نظیر نہیں ۔بلکہ اس کے بعد سے آج چودہ سو سال تک آنے والے خلفا،حکما واُمراکے لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات طیبہ مشعل راہ بن گئی۔گویا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیاتِ مبارکہ کایہ فیضان قیامت تک جاری رہے گا۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد