نہایت ہی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئے۔ (الکامل فی التاریخ، ص۲۶۱ تا ۲۶۲)
فتح اردن
رومیوں کے لیے جنگ یرموک نہایت عبرت وحسرت کا موجب ثابت ہوئی، انہوں نے اپنی پوری طاقت اس جنگ میں جھونک دی تھی اور تمام منصوبے جو انہوں نے اس جنگ سے وابستہ کررکھے تھے، دم توڑ گئے تھے۔ بادشاہ روم ہرقل جنگ کے موقع پر حمص میں مقیم تھا، اسے اپنی فوج کی شکست کا معلوم ہوا تو کسی کو اپنا نائب بنا کر حمص سے رخصت ہوگیا۔ جنگ یرموک ختم ہوئی تو مسلمانوں نے اردن کا رخ کیا اور اسے بھی جلد ہی فتح کرلیا۔
فتح اجنادین
حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ خبر ملی کہ رومیوں کی فوجیں کثیر تعداد میں اجنادین میں جمع ہو گئی تھیں اور اجنادین کے تمام باشندے اور وہ عرب قبائل جو شام میں مقیم ہیں ، رومی فوجوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے مقابلے کی تیاری کررہے ہیں۔یہ خبر بڑی تشویش ناک تھی جسے سنتے ہی حضرت سیدنا خالد اور حضرت سیدناابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا دمشق سے نکلے اور اجنادین کو روانہ ہوگئے۔ ساتھ ہی حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا یزید بن ابو سفیان ، حضرت سیدنا شرحبیل بن حسنہ اور حضرت سیدنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو پیغام بھیجا کہ وہ اپنے اپنے لشکر وں کو لے کر اجنادین پہنچ جائیں۔ان کے اجنادین پہنچتے ہی حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے تمام فوجوں کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی اور فوج کو ترتیب دینے لگے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حکم دیا تھا کہ نماز ظہر تک جنگ شروع نہ کی جائے لیکن رومی فوج نے اس سے قبل ہی مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ حضرت سیدنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حملہ کرنے کی اجازت طلب کی، اجازت ملتے ہی وہ تیزی سے دشمن پر ٹوٹ پڑے اور یہ حملہ اس قدرشدید تھا کہ رومی فوج اس کا مقابلہ نہ کرسکی اور میدان چھوڑنے پر مجبور ہوگئی۔ رومیوں کے بے شمار آدمی قتل ہوئے اور