بڑے جرنیل بھی میدان میں موجود تھے، پھر یہ ایک پرانی ترقی یافتہ اور دنیا کی مشہور ترین حکومت تھی بہت سے علاقوں پر اس کا قبضہ تھا۔رومیوں نے بھی تیزی سے اپنی صفوں کو درست کرنا شروع کردیا۔ (الکامل فی التاریخ،ج۲، ص۲۵۶ تا ۲۵۸)
دونوں لشکروں میں جنگ
رومی سردار باہان نے چند دستوں کو مسلمانوں کے مقابلے کے لیے میدان میں نکلنے کا حکم دیا تو جرجہ ہراول دستے کی کمان کررہاتھا۔ اس نے مناسب موقع سمجھ کر حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو آواز دی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی فوج سے باہر نکل کر آئے اور اسے ملے۔ دونوں نے باہم کچھ گفتگو کی اور پھر الگ الگ ہوگئے۔ اس اثنا میں رومی سپہ سالار کو خیال گزرا کہ جرجہ کو آگے بڑھنے کے لیے مزید فوج کی ضرورت ہے۔ اب عام جنگ کا آغاز ہوا اور جنگ کی ابتداء میں ہی رومیوں نے زور دار حملہ کیا۔ حضرت سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بالکل اپنے سامنے دستہ لیے کھڑے تھے۔ انہوں نے جب رومی حملے کو دیکھا تو بے قابو ہوگئے اور بہ آواز بلند رومیوں سے کہا کہ میں نےبڑے بڑے معرکے دیکھے ہیں میں تم سے ڈرنے والا نہیں ہوں ، پھر انہوں نے اپنے دستے کے نوجوانوں میں جوش اور ولولہ پیدا کیااور اس زور کا حملہ کیا کہ رومیوں کے لیے میدان میں قدم جمائے رکھنا دشوار ہوگیا ۔ ایک حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ دوران جنگ جرجہ نے اپنے اسلام کا اعلان کردیا اور اپنے دستے کے ساتھ مسلمانوں سے آملا، اس سے رومیوں میں مزید بدحواسی پھیل گئی اوروہ پیچھے ہٹنے لگے۔حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب رومیوں کی یہ بدحواسی دیکھی تواپنے لشکر کو آگے بڑھنے اور دشمن پر مزید حملے کرنے کا حکم دیا۔ پورا دن جنگ جاری رہی بالآخر سورج کے غروب ہونے کا وقت قریب آیا تو رومی فوج میں کم زوری کے آثار دکھائی دینے لگے اور ان کے سواروں کے چہرے مرجھا گئے۔ اب وہ بھاگنے کی راہ ڈھونڈرہے تھے، مگر کوئی راہ نظر نہ آتی تھی۔حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسلمانوں کے لشکر کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا جیسے ہی لشکر پیچھے ہٹا تو رومی فوراً بھاگ کھڑے ہوئے ، مسلمانوں نے بھی ان کا پیچھا شروع کرکے انہیں قتل کرنا شروع کردیا۔ ان کے بہت سے فوجی خندق میں جا گرے ۔ بہر حال رومی