شروع کردی۔اور اپنی فوج کے دو حصے کرکے دوسرا حصہ حضرت سیدنا مثنیٰ بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دے دیااور عراق سے کوچ کرکے ملک شام روانہ ہوگئے۔
یرموک پر تمام لشکروں کا اجتماع
حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور ان کا تمام لشکر ایک دشوار گزار راستے سے حضرت سیدنا رافع بن عمیر طائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی راہنمائی میں ملک شام کی سرحد میں داخل ہوگئے۔ سب سےپہلے وہ سوی کی بستی میں داخل ہوئے اور اس پر حملہ کردیا وہاں کے باشندوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اسی طرح تدمراور مرج راہط جو غسانیوں کا علاقہ تھا اس کا بھی یہی حال ہوا ۔ بہرحال مرج راہط سے چل کر وہ بصری پہنچے جہاں حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح، حضرت سیدنا شرحبیل بن حسنہاور حضرت سیدنایزید بن ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اپنی اپنی فوجوں کے ساتھ ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں اپنے ساتھ ملایا اور بصری پر حملہ کرکے اسے فتح کرلیااور پھر تمام فوجیں یرموک کے مقام پر جمع ہوگئیں۔
مسلمانوں کے لشکر کی مکمل تعداد
مسلمان جب یرموک میں جمع ہونا شروع ہوئے تو ان کی تعداد ستائیس ہزار تھی اور جب حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آئے تو ان کے ساتھ نو ہزار کی فوج تھی یوں ساری تعداد تقریبا چھتیس ہزار ہوگئی۔بعض نے کہا کہ مکمل تعداد سینتیس ہزار تھی اور پھر حضرت سیدنا خالد بن سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے تین ہزار کے لشکر ملانے سے کل چالیس ہزار ہوگئی۔بہرحال ان میں ایک ہزار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تھے ، ان میں سے تقریباً ۱۰۰ کے قریب بدری صحابہ تھے۔
رومی فوج کی تعداد
رومی فوج کی تعداد دولاکھ چالیس ہزار کے قریب تھی۔ ان کے پاس اسلحہ بھی بے شمار تھااور ان کے بہت بڑے