اضافہ محسوس کیا اوردارالخلافہ سے مجاہدین کی مدد کے لیے مسلسل فوجیں ملک شام بھیجی جانے لگیں۔حضرت سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کندہ اور حضر موت کی بغاوتوں کو ختم کرکے یمن اور مکۂ مکرمہ سے ہوتے ہوئے مدینۂ منورہ پہنچے تو سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں حضرت سیدنا خالد بن سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مدد کے لیے ملک شام روانہ فرمادیا۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک اور لشکر تیار کرکے حضرت سیدنا ذوالکلاع حمیری کو اس لشکر کا قائد مقرر فرمایا اور انہیں بھی ملک شام بھیج دیا۔بعدازاں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو حمص کا والی مقرر کرکے ایک بھاری فوج کے ساتھ شام جانے کی ہدایت فرمائی۔ حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ملک شام کے لیے روانہ ہوئے اور ارض بلقاء پہنچے۔ وہاں کے کچھ لوگوں نے مزاحمت کی لیکن پھر صلح کرلی۔ یہ ملک شام کی پہلی صلح تھی۔ حضرت سیدنا یزید بن ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی بلقاء میں قیام کیا جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہارض فلسطین سے گزرے تو رومیوں اور بدوؤں کی ایک فوج نے ان پر حملہ کردیا، لڑائی ہوئی لیکن دشمنوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑااور سیدنا یزید بن ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں شکست سے دوچار کردیا۔ واضح رہے کہ حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے سریہ کے بعد ملک شام کی یہ پہلی جنگ تھی جو شام میں لڑی گئی ۔
(الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۵۲ تا ۲۵۴ ملتقطا)
سیدنا خالدبن ولید کی شام کی طرف روانگی
امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مختلف اکابر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو افواج دے کر شام کی طرف بھیج دیا تھا۔ آپ کے ذہن میں آیا کہ اس موقعے پر حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بھی خدمات لی جائیں کیونکہ وہ ایران وعراق کے محاذ پر کئی مرتبہ کثیر التعداد فوجوں کا مقابلہ کرچکے تھے اور بڑے بڑے دشمنوں سے ان کی پنجہ آزمائی ہوچکی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں ایک مکتوب لکھا جس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ شام کی طرف پیش قدمی اور اپنی فوج کے دو حصے کرکے حضرت سیدنا مثنیٰ بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ایک حصہ سپردکرنےکا بھی حکم تھا۔جیسے ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ حکم حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ملا آپ نے وہاں جانے کی تیاری