Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
193 - 691
صدیق اکبر اور ہجرتِ حبشہ 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کفار مکہ اور اہل قریش حضورنبی ٔرحمت،شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جانی دشمن ہوچکے تھےاور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماوردیگر مسلمانوں کوطرح طرح کی تکلیفیں دیتے رہنااس کا وطیرہ بن چکاتھا۔مسلمان چونکہ تعداد کے لحاظ سےبہت ہی تھوڑے تھے اوران تکلیفوں کا سامنا کرنا ان کے بس میں نہیں تھا، اس لیے حضور نبیٔ کریم ،رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے ان جاں نثاروں اور اسلام کے فدائیوں کو حکم فرمایا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے قریبی ملک حبشہ ہجرت کرجائیں کیونکہ حبشہ عربوں کے لیے کوئی نیا ملک نہیں تھا بلکہ قریش کی وہ ایک قدیم تجارت گاہ تھی۔اس کے علاوہ حبشہ کے تاجروں نے قریش کے تاجروں کو کئی طرح کی تجارتی سہولتیں اور مراعات بھی دے رکھی تھیں، اپنے انہی پرانے مراسم اور تجارتی تعلقات کے حوالے سے مسلمانوں کو حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم دیاگیا۔اس ہجرت حبشہ کا ایک فائدہ تو یہ تھا کہ مسلمان وہاں کے انصاف پسند اور عادل حکمران کے پاس جا کر کفار مکہ کے مظالم سے ممکنہ حدتک محفوظ ہوجائیں گے اورساتھ ہی مسلمان اس ملک میں تبلیغ اسلام کا فریضہ بھی ادا کرتے رہیں گےجس سے مسلمانوں کی اَفرادی قوت میں اضافہ ہوگا۔بہرحال مسلمان آہستہ آہستہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے لگےاور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی ۵ بعثت نبوی بمطابق؁ ۶۱۴ ء ہجرت حبشہ کا ارادہ فرمایا اور گھر سے ہجرت کے لیے نکل پڑے۔ اگرچہ ہجرت مکمل نہ کی لیکن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی ہجرتِ حبشہ کا واقعہ نہایت ہی دلچسپ ہے ۔چنانچہ،
میرے رب کی امان ہی کافی ہے
اُمّ المومنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں:’’میں نے جب سےہوش سنبھالااپنے والدین کو دینِ اسلام سے مشرف پایا اور کوئی دن ایسا نہ ہوتا تھا جس دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ