(سنن نسائی،کتاب الجنائز،باب کثرۃ ذکرالموت،ج۴،ص۴)
ہر شخص کی موت اس کی دنیاوی لذتیں کھانے پینے سونے وغیرہ کے مزے فنا کر دیتی ہے ۔ہاں مومن مردے کو زندوں کے ذکر اور تلاوت قرآن سے لذت آتی ہے نیز زیارتِ قبر کرنے والے سے انس ہوتا ہے برزخی (یعنی عالَمِ برزخ کی) لذتیں پاتا ہے جو یہاں کی لذتوں سے کہیں اعلیٰ ہیں۔ علماء فرماتے ہیں اور جو روزانہ موت کو یاد کر لیا کرے اس کے لیے درجہ شہادت ہے۔
(مراٰۃ المناجیح،ج ۲،ص۴۳۹)
اس حدیث میں موت کویاد کرنے کی تاکید اس لئے کی گئی تاکہ ہم قیامت کے امتحان اور زادِ آخرت کے حصول سے غافل نہ ہوجائیں ۔
(مرقاۃ المفاتیح ، ج۴،ص۷۴)