بارگاہ ِرِسالت سے ہند کی سُلطانی مل گئی
بارگاہِ رسالت میں خواجہ مُعینُ الدّین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِینکے مرتبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا خواجہ مُعینُ الدّین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِین کومدینے شریف کی حاضری کاشرف ملاتونہایت اَدب واِحترام کے ساتھ یوں سلام عرض کیا:’’اَلصَّلوةُ وَالسَّلامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْمُرْسَلِین وَخَاتَمَ النَّبِیِّین‘‘اس پر روضۂ اقدس سے آواز آئى:وَعَلَیْکُمُ السَّلاَمُ یَا قُطْبَ الْمَشَائِخ (1) نیزحضرت سیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو ہند کی سلطانی بھی بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی سے عطا ہوئی۔چنانچہ شَیخ طریقت، اَمیرِاَہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ’’ خوفناک جادوگر ‘‘کے صفحہ 2 پر رقمطراز ہیں :
سلسلہ عالیہ چِشتیہ کے عظیم پیشوا خواجہ خواجگان، سُلطانُ الھند حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز حسن سَنْجَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کومدینہ منوَّرہ زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً کی حاضِری کے موقع پر سیِّدُ الْمُرسَلین، خَاتمُ النَّبِیّین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سےیہ بشارت ملی: ”اے مُعینُ الدِّین! توہمارے دین کامُعِین (یعنی دین کا مددگار ) ہے ، تجھے ہندوستان کی وِلایت عطا کی، اجمیر جا، تیرے وُجُود سے بے دینی دُور ہوگی اور اسلام رونق پذیرہو گا۔“
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - اللہ کے خاص بندےعبدہ، ص ۵۱۰ ، بتغیر