Brailvi Books

فیضانِ خواجہ غَریب نواز
8 - 30
 خدمت اور عقیدت دیکھی تو ایسی کمالِ نعمت عطا فرمائی جس کی کوئی انتہا نہیں۔
مُرید ہو تو ایسا
یقیناً جس طرح ہر مُحب کی چاہت ہوتی ہے کہ محبوب کی نظروں میں سماجاؤں اور  شاگرد کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ اُستاد کی آنکھوں کا تارابن جاؤں اسی طرح ایک مُرید کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ  میں اپنے پیر و مُرشد کا منظورِنظر بن جاؤں مگر ایسے قسمت کے دَھنی بہت کم ہوتے ہیں جن کی یہ تمنا پوری ہوجائے۔حضرت  خواجہ مُعینُ الدّین حسن چشتی اجمیریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِیبارگاہِ مُرشد میں اس قدر مقبول تھے کہ ایک موقع پرخودمُرشدِ کریم خواجہ عثمان ہاروَنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی   نے فرمایا:ہمارا مُعینُ الدین اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا محبوب ہے ہمیں  اپنے مُرید پر فخر ہے۔ (1) 
بارگاہ ِالٰہی میں مَقْبولِیَّت
ایک بار حج کے موقع پر حضرت سَیِّدُناخواجہ عثمان ہاروَنى عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِینے مىزابِ رحمت کے نىچے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ہاتھ پکڑ کر بارگاہِ الٰہی مىں دُعا  کی: اے مولیٰ! مىرے مُعىنُ الدّىن حسن کو اپنى بارگاہ مىں قبول فرما۔غىب سے آواز آئى: مُعىنُ الدّىن ہمارا دوست ہے،  ہم نے اسے قبول کىا ۔ (2) 



________________________________
1 -     مرآۃ الاسرار،  ص۵۹۵
2 -     اقتباس الانوار، ص۳۴۹