1 سَیِّدِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو جوان کسی بوڑھے کا اس کی عمر کی وجہ سے اِکرام کرے اس کے بدلے میں اللہعَزَّ وَجَلَّ کسی کے ذریعے اس کی عزت افزائی کرواتاہے ۔ (1)
حصولِ علم کے لیے سفر
حضرت سَیِّدُنا خواجہ مُعینُ الدّین چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے 15برس کی عمر میں حصول ِعلم کے لیے سفر اختیارکیا اورسمرقندمیں حضرت سَیِّدُنا مولانا شرفُ الدّىن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن کی بارگاہ میں حاضر ہوکرباقاعدہ علمِ دین کا آغاز کیا۔پہلے پہل قرآنِ پاک حفظ کیا اور بعد ازاں انہی سے دیگر عُلوم حاصل کئے۔ (2) مگر جیسے جیسے علمِ دین سیکھتے گئے ذوقِ علم بڑھتا گیا، چنانچہ علم کی پیاس کو بجھانے کے لئے بُخارا کا رُخ کیا اورشُہرۂ آفاق عالمِ دین مولانا حسامُ الدّىن بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کے سامنے زانوئے تَلمُّذتہ کیا اور پھرانہی کی شفقتوں کے سائے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے تھوڑے ہی عرصے میں تمام دىنى عُلوم کى تکمىل کرلی۔اس طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجموعی طور پر تقریباً پانچ سال سمرقند اور بُخارا میں حُصولِ علم کے لئے قیام فرمایا۔ (3)
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب البر والصلة ، باب ما جاء فی اجلال الکبیر، ۳/۴۱۱، حدیث: ۲۰۲۹
2 - اللہ کے خاص بندےعبدہ، ص ۵۰۸ملخصاً
3 - اللہ کے خاص بندےعبدہ، ص ۵۰۸ ملخصاً