Brailvi Books

فیضانِ خواجہ غَریب نواز
25 - 30
 خادم جب اَخْراجات کے لیے  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی بارگاہ میں دست  بستہ عرض کرتاتوآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمُصلّے کا کنارہ اُٹھادیتے جس کے نىچے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے خزانہ ہی خزانہ نظر آتا۔چنانچہ خادم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے حکم سے حسبِ  ضرورت لے لیتا ۔ (1) 
وصالِ پُر ملال
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وصال کی شب بعض بزرگوں نے خواب مىں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب،  دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا:میرے دین کا مُعین حسن سَنْجری آرہا ہے مىں اپنے مُعىنُ الدّىن کے اِستقبال  کے لیے آىا ہوں۔چنانچہ۶رجبُ المرجب ۶۳۳ھ بمطابق 16 مارچ 1236ء بروز پیر فجر کے وقت محبین انتظار میں تھے کہ پیرومُرشد آ کر نمازِ فجر پڑھائیں گے مگر افسوس!ان کا انتظار کرنا بے سُودرہا ۔کافی دیرگزرجانے کے بعد جب خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِ تَعَالٰی  عَلَیْہ  کے حجرے شریف کا دروازہ کھول کر دیکھا گیا تو غم کا سمندر اُمنڈ آیا، حضرت سَیِّدُنا خواجہ خواجگان سُلطانُ الہند مُعىنُ الدّىن حسن چشتى اجمىری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی وصال فرما چکے تھے۔اور دیکھنے والوں نے یہ حیرت انگیز و روحانی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کی نورانی پیشانی پر یہ عبارت نقش تھی:حَبِیْبُ اللهِ مَاتَ فِیْ 



________________________________
1 -     اقتباس الانوار، ص۳۷۶