بطورِ انعام آخرت میں تو بلندوبالا دَرَجات اور بے شُمار نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہی ہے لیکن دنیا میں بھی ان کے مقام و مرتبے کو لوگوں پر ظاہر کرنے کےلئے کچھ خَصائص وکرامات عطافرماتاہے۔خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کوبھی اللہعَزَّ وَجَلَّ نے بے شُمار کرامات سے نوازرکھا تھا آئیے ! ان میں سے چند کرامات پڑھئے اور اپنے دلوں میں اولیائے کرام کی محبت کو جگائیے !
(1)مُرد ہ زند ہ کرد یا
ایک بار اجمیر شریف کے حاکم نے کسی شخص کو بے گناہ سُولی پر چڑھا دیا اور اُس کی ماں کو کہلا بھیجا کہ اپنے بیٹے کی لاش لے جائے۔ دُکھیاری ماں غم سے نڈھال ہوکر روتی ہوئی حضرت خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہوئی اور فریادکرنے لگی : آہ! میراسَہارا چھن گیا، میرا گھر اُجڑ گیا، میرا ایک ہی بیٹا تھا حاکمِ نے اُسے بے قُصور سُولی پر چڑھادیا ۔ یہ سن کرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جلال میں آگئے اورفرمایا: مجھے اس کی لاش کے پاس لے چلو۔جونہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لاش کے قریب پہنچے تو اشارہ کرکے فرمایا: اے مقتول! اگر حاکمِ وقت نے تجھے بے قُصُور سُولی دی ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے اُٹھ کھڑا ہو۔ لاش میں فوراً حرکت پیدا ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص زندہ ہو کر کھڑا ہوگیا۔ (1)
________________________________
1 - خوفناک جادوگر، ص۱۶بتغیر