پرہے۔ تواس وقت خواجہ غریب نواز سَیِّدُنامُعینُ الدّین چشتی اجمیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنی جوانی کے دنوں میں ملک خُراسان میں واقع ایک پہاڑی کےدامن میں عبادت کیاکرتے تھے، جب آپ نے یہ فرمانِ عالی سُنا تو اپنا سرجھکالیا اورفرمایا:”بَلْ قَدَمَاکَ عَلٰی رَاْسِیْ وَعَیْنِیْ“بلکہ آپ کے قدم میرے سراور آنکھوں پر ہیں۔ (1)
مُریدوں کی فکر
ایک بارخواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مکہ مکرمہ کی نوربار فضاؤں میں مُراقبہ کر رہے تھے کہ ہاتفِ غیب سے آواز آئى: مانگ کىا مانگتاہے؟ ہم تجھ سے بہت خوش ہىں، جو طلب کرے گا پائے گا۔ عرض کى:یا الٰہی عَزَّ وَجَلَّ !میرے تمام مُریدوں کو بخش دے۔جواب آیا: بخش دیا۔عرض کی: مولیٰ !جب تک مىرے تمام مُرىدجنَّت میں نہ چلے جائىں میں جنَّت میں قدم نہ رکھوں گا۔ (2)
سُلطانُ الہندحضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی زندگی کے تقریباً ۸۱برس راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں علم دین حاصل کرنے اور مخلوق کو راہِ راست پر لانے کے لئے بسر کر دئیے بلکہ کئی کتابیں بھی تحریر فرمائیں ان میں سے چند کتابوں کے نام یہ ہیں۔
________________________________
1 - غوث پاک کے حالات ، ص۶۷
2 - تذکرہ اولیائے برصغیر ہندوپاک، ص۳۲