Brailvi Books

فیضانِ خواجہ غَریب نواز
15 - 30
تھے۔اگرکبھی غصہ آتا توصرف دینی غیرت و حمیّت کی بنیاد پرآتا البتہ  ذاتی طور پراگر کوئی سخت بات کہہ بھی دیتا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ برہم نہ ہوتےبلکہ ا س وقت بھی حسنِ اخلاق اور خَنْدہ پیشانی  کا مُظاہرہ کرتے ہوئے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے  اورایسامعلوم ہوتا کہ  آپ نے اس کی نازیبا باتیں سنی ہی نہ ہو ں۔  (1) 
خوفِ خدا
حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپر خوفِ خدا اس قدر غالب تھا کہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہمیشہ خشیتِ الٰہی سے کانپتے اور گریہ وزاری کرتے، خلقِ خدا کو خوفِ خدا کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے: اے لوگو!اگر تم زیرِخاک سوئے ہوئے لوگوں کا حال جان لو تو مارے خوف کے کھڑے کھڑے پگھل جاؤ ۔  (2) 
پردہ پوشی
حضرت خواجہ قُطبُ الدّین بختیارکاکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْکافیاپنے پیرو مُرشد حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کی صِفاتِ مومنانہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں کئی برس تک خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر رہا لیکن کبھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زبانِ اقدس سے کسی کا راز فاش ہوتے نہیں  دیکھا، 



________________________________
1 -     حضرت خواجہ غریب نواز حیات وتعلیمات،  ص۳۹ ، بتغیر
2 -     معین الارواح،  ص ۱۸۵ملخصاً