بھی انتہا درجے کی سادگی نظر آتی تھی آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکالباس صرف دو چادروں پرمشتمل ہوتا اوراس میں بھی کئی کئی پیوند لگے ہوتےگویا لباس سے بھی سُنَّتِ مصطفٰے سے بے پناہ مَحَبَّت کی جھلک دکھائی دیتی تھی نیز پیوند لگانے میں بھی اس قدر سادگی اختیار کرتے کہ جس رنگ کا کپڑا میسر ہوتا اسی کو شرف بخش دیتے۔ (1)
پڑوسیوں سے حسن سلوک
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے پڑوسیوں کابہت خیال رکھاکرتے، ان کی خبرگیری فرماتے ، اگر کسی پڑوسی کا انتقال ہوجاتا تو اس کے جنازےکے ساتھ ضرور تشریف لے جاتے، اس کی تدفین کے بعدجب لوگ واپس ہو جاتے تو آپ تنہا اس کی قبر کے پاس تشریف فرما ہوکر اس کے حق میں مغفرت و نجات کی دعا فرماتے نیز اس کے اہلِ خانہ کو صبرکی تلقین کرتے اور انہیں تسلی دیاکرتے۔آپ کےحلم و بُردباری جُودو سخاوت اور دیگر اخلاقِ عالیہ سے مُتأثر ہوکر لوگ عُمدہ اخلاق کے حامل اور پاکیزہ صفات کے پیکر ہوئے اوردہلی سے اجمیر تک کے سفر کے دوران تقریباً نَوّے لاکھ افراد مُشرف بہ اسلام ہوئے۔ (2)
عفو وبردباری
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہت ہی نرم دل اورمُتحمِّل مزاج سنجیدہ طبیعت کے مالک
________________________________
1 - مرآۃ الاسرار، ص۵۹۵ملخصاً
2 - معین الارواح، ص ۱۸۸بتغیر