Brailvi Books

فیضانِ خواجہ غَریب نواز
11 - 30
حاکمِ  سبزوار کی توبہ
سفرِہند کے دوران جب حضرتِ سَیِّدُناخواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا گزر علاقہ سبز وار (صوبہ خُراسان رضوی ایران ) سے ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے وہاں ایک باغ میں قیام فرمایاجس کے وَسْط مىں ایک خُوش نما حوض تھا۔  یہ باغ حاکمِ سبزوار کا تھا جو بہت ہی ظالم اور بدمذہب شخص تھااس کا معمول تھا کہ جب بھی باغ میں آتا تو شراب پیتا اور نشے میں خُوب شور وغل مچاتا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حوض سے وضو کیا اور نوافل ادا کرنے لگے۔ مُحافظوں نے اپنے حاکم کى سخت گىرى کا حال عرض کیا اور درخواست کى کہ ىہاں سے تشرىف لے جائىں کہیں حاکم آپ کو کوئى نقصان نہ پہنچادے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرماىا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   مىرا حافظ وناصر (نگہبان ومددگار) ہے۔اسی دوران  حاکم باغ مىں داخل ہوا اور سىدھا حوض کى طرف آىا۔ اپنی عیش و عشرت کی جگہ پراىک اجنبى دروىش کو دىکھا تو آگ بگولا ہوگىا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک نظر ڈالی اور اس کی کایا پلٹ دی۔ حاکم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی نظرِجلالت کی تاب نہ لاسکا اور بے ہوش ہو کر زمین پر گرپڑا۔ خادموں  نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، جُونہی ہوش آیا فوراً آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے قدموں میں  گر کر  بدمذہبیت اور گناہوں سے تائب ہوگیااور آپ کے دستِ مبارک پربیعت ہوگیا۔ پیرومُرشد حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی