Brailvi Books

فیضان جمعہ
25 - 26
٭اعلٰی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :بحالتِ خطبہ چلنا حرام ہے۔ یہاں تک عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں کہ اگر ایسے وقت آیا کہ خطبہ شروع ہو گیا تو مسجِد میں جہاں تک پہنچا وَہیں رُک جائے ، آگے نہ بڑھے کہ یہ عمل ہو گا اور حالِ خطبہ میں کوئی عمل رَوا( یعنی جائز ) نہیں ۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ص۳۳۳)
٭اعلٰی حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :خطبے میں کسی طرف گردن پھیر کر دیکھنا ( بھی) حرام ہے۔(اَیضاًص۳۳۴)
جُمُعہ کی اِمامَت کا اَہَم مَسئَلہ
	ایک بَہُت ضروری اَمر جس کی طرف عوام کی بالکل توجُّہ نہیں وہ یہ ہے کہ جُمُعہ  کو اور نَمازوں کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا  نیا  جُمُعہ قائم کرلیا اور جس نے چاہا پڑھا دیا یہ ناجائز ہے اس لئے کہ جُمُعہ  قائم کرنا بادشاہِ اسلام یا اُس کے نائب کا کام ہے ۔ او ر جہاں اسلامی سلطنت نہ ہو وہاں جو سب سے بڑا فقیہ( عالم) سُنّی صحیحُ الْعقیدہ ہو،   وہ اَحکامِ شَرعِیّہ جاری کرنے میں سلطانِ اسلام کا قائم مقام ہے لہٰذا وُہی  جُمُعہ قائم کرے، بغیر اُس کی اجازت کے ( جُمُعہ) نہیں ہو سکتا اور یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں ۔ عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطورِ خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو