جنت میں داخِل ضرور ہوگا ۔ (سُنَنِ ابوداوٗد ج۱ص۴۱۰حدیث۱۱۰۸)
توجُمُعہ کا ثواب نہیں ملے گا
فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے:جو جمعہ کے دن کلام کرے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تواس کی مثال اُس گدھے جیسی ہے جو کتابیں اُٹھائے ہو اوراُس وقت جوکوئی اس سے یہ کہے کہ’’ چپ رہو‘‘ تواُسے جمعہ کا ثواب نہ ملے گا۔ (مُسندِ اِمام احمد ج۱ص۴۹۴ حدیث ۲۰۳۳)
چُپ چاپ خُطبہ سُننا فَرض ہے
جو چیزیں نَماز میں حرام ہیں مَثَلاً کھانا پینا، سلام و جوابِ سلام وغیرہ یہ سب خطبے کی حالت میں بھی حرام ہیں یہاں تک کہ اَمرٌ بِالْمَعْروف،ہاں خطیب اَمرٌ بِالْمَعْروف کر(یعنی نیکی کی دعوت دے) سکتا ہے۔ جب خطبہ پڑھے، تو تمام حاضِرین پر سننا اور چُپ رَہنا فرض ہے، جو لوگ امام سے دُور ہوں کہ خطبے کی آواز ان تک نہیں پہنچتی اُنہیں بھی چُپ رَہنا واجب ہے اگر کسی کو بُری بات کرتے دیکھیں تو ہاتھ یا سر کے اشا ر ے سے مَنع کر سکتے ہیں زَبان سے ناجائز ہے۔(بہارِ شریعت ج۱ص۷۷۴،دُرِّمُختار ج۳ص۳۹)
خطبہ سُننے والا دُرُود شریف نہیں پڑھ سکت
سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا نامِ پاک خطیب نے لیا توحاضِرین دِ ل میں دُرُود شریف پڑھیں زَبان سے پڑھنے کی اُس وقت اجازت نہیں ، یونہی صَحابۂ کرام