Brailvi Books

فیضان جمعہ
21 - 26
پہننا ،تیل اور خوشبو لگانا اور پہلی صَف میں بیٹھنا مُستَحَب ہے اور غُسل سنّت ہے۔ (عالمگیری ج۱ص۱۴۹، غُنیہ ص۵۵۹)	
غُسلِ جُمُعہ کا وقت
	مُفسّرِشہیر حکیم الامّت حضرت ِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّانفرماتے ہیں : بعض عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ غسلِ جُمُعہ نَماز کیلئے مَسنون ہے نہ کہ جُمُعہ کے دن کیلئے۔ لہٰذاجن پر جُمُعہ کی نَماز نہیں اُن کیلئے یہ غُسل سنّت نہیں ، بعض عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ جمُعہ کا غسل نَمازِ جُمُعہ سے قریب کرو حتیّٰ کہ اس کے وُضو سے جُمعہ پڑھو مگر حق یہ ہے کہ غسلِ جُمُعہ کا وقت طُلوعِ فجر سے شروع ہوجاتا ہے۔(مِراٰۃ ج۲ ص ۳۴ ۳ )  معلوم ہوا عورت اور مسافِر وغیرہ جن پر جُمُعہ واجِب نہیں ہے اُن کیلئے غسلِ جُمُعہ بھی سنّت نہیں ۔
غسلِ جُمُعہ سنَّتِ غیر مُؤَکَّدہ ہے
	حضرت علامہ ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامیفرماتے ہیں :نمازِ جُمُعہ کیلئے غُسل کرنا سُنَنِ زَوائِد سے ہے اِس کے ترک پر عتاب (یعنی ملامت) نہیں ۔ (رَدُّالْمُحتار ج۱ص۳۳۹)	
خطبے میں قریب رہنے کی فضیلت 
	حضرتِ سیِّدُنا سَمُرَہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مَروی ہے، حضور سراپا نور، فیض گنجور، شاہِ غَیور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :حاضِر رہو خطبے کے وقت اور امام سے قریب رہو اِس لئے کہ آدَمی جس قدَر دُور رہے گا اُسی قَدَر جنت میں پیچھے رہے گا اگرچِہ وہ(یعنی مسلمان)