Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
99 - 831
اِلَی الْحُسْنَیَیْنِ اَسْلَمَ قَبْلِیْ وَاسْتَشْھَدَ قَبْلِیْ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے بھائی پر رحم فرمائےجو دو اچھی باتوں   میں  مجھ سے سبقت لے گئے، مجھ سے پہلے اسلام قبول کیا اور مجھ سے پہلے شہادت حاصل کرلی۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کو غمزدہ کرنے والی شخصیت:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی مضبوط قلب والی شخصیت تھے لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو آپ کے بھائی حضرت سیِّدُنا زید بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت نے بہت زیادہ غمزدہ کیا تھا، یہاں   تک کہ جب ہواچلتی تو آپ فرمایا کرتے تھے : ’’اِنَّ الصَّبَا لَتَهُبُّ فَتَاْتِينِي بِرِيحِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِیعنی جب ہوا چلتی ہے تو زید بن خطاب کی خوشبو میرے پاس لے آتی ہے۔‘‘حضرت سیِّدُنا زید بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی جلیل القدر اور بہادر صحابیٔ رسول تھے ، سیدصدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عہدِ خلافت میں   مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی مشہور جنگ ’’جنگ یمامہ ‘‘میں   شہید ہوگئے تھے۔(2)
دوسرے بھائی: سیِّدُنا عثمان بن حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے یہ بھائی آپ کے حقیقی نہیں   بلکہ مجازی بھائی ہیں  ، یعنی یہ آپ کے بھائی سیِّدُنا زید بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اخیافی( ماں   شریک)بھائی ہیں   کہ ان دونوں   کی والدہ ایک ہی ہیں  ۔بعض نے ان کے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے رضاعی بھائی ہونے کا قول بھی کیا ہے۔ان کے والد اوّلین صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں   سے ہیں  ، سیِّدُنا عثمان بن حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسلام میں   اختلاف ہے لیکن راجح اِسلام ہی ہے۔(3)
فاروقِ اعظم کی بہنوں   کا تعارف
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صرف دو ہی بہنیں   ہیں   جن کا تعارف کچھ یوں   ہے:
پہلی بہن، سیدتنا فاطمہ بنت خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا :
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا لقب’’اُمیمہ‘‘ہے ان کو ’’رملہ‘‘ بھی کہتے ہیں  ، ان کی کنیت ’’اُمّ جمیل‘‘اور نام ’’فاطمہ‘‘ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تھذیب الاسماء ، زید بن الخطاب، ج۱، ص۲۰۰۔
2…طبقات کبری، زید بن الخطاب، ج۳، ص۲۸۹۔
3…فتح الباری، کتاب الادب، ج۱، ص۳۲۸، عمدۃ القاری، کتاب الادب، باب صلۃ الاخ المشرک، ج۱۵، ص۱۵۲، حدیث: ۵۹۸۱۔