Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
94 - 831
سے ہوگا جو حفصہ سے افضل ہے۔‘‘پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا جسے آپ نے قبول کرکے اپنی بیٹی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے نکاح میں   دے دی اور چار سو درہم حق مہر مقرر ہوا۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ملاقات حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوئی تو انہوں   نے وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’لَا تَجِدْ عَلَیَّ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ حَفْصَۃَ فَلَمْ اَكُنْ لَاَفْشِیْ سِرَّ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ وَلَوْ تَرَكَھَا لَتَزَوَّجْتُھَا یعنی اے عمر آپ مجھ سے خفا نہ ہوں  کیونکہ میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے آپ کی بیٹی حفصہ کے بارے میں   بات کی تھی اور مجھے یہ گوارا نہیں   کہ میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا راز کسی دوسرے کے سامنے افشاں   کروں  ، اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نکاح نہ فرماتے تومیں   ان سے ضرور نکاح کرلیتا۔‘‘
سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   بہت ہی بلند ہمت اور سخی عورت تھیں   ۔ فہم وفراست اور حق گوئی و حاضر جوابی میں   اپنے والد ہی کا مزاج پایا تھا اکثر روزہ دار رہا کرتیں   اور تلاوت قرآن مجید اور دیگر قسم کی عبادتوں   میں   مصروف رہا کرتی تھیں   عبادت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث کے علوم میں   بھی بہت معلومات رکھتی تھیں   ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے کئی احادیث مبارکہ روایت کی ہیں   اور آپ سے آپ کے بھائی حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور دیگر کئی اصحاب نے احادیث روایت کی ہیں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا وصال حضرت سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِخلافت کے آخری ایام میں   شعبان ۴۵ھ یا باختلاف روایت جمادی الاولی سن اکتالیس ہجری مدینہ منورہ میں   ہوا۔ حاکم مدینہ مروان بن حکم نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کے بھتیجوں   نے قبر میں   اتارا اور جنت البقیع میں   دفن ہوئیں   بوقت وفات ان کی عمر ساٹھ ۶۰یا تریسٹھ ۶۳برس تھی۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اسد الغابۃ، حفصہ بنت عمر، ج۷، ص۷۴۔
	طبقات کبری،  حفصۃ بنت عمر، ج۸، ص۶۸۔
	الاصابۃ، حفصۃ بنت عمر، ج۸، ص۸۵، الرقم:۱۱۰۵۳۔
	تھذیب التھذیب، کتاب النساء، حرف الحاء، ج۱۰، ص۴۶۵، الرقم:۸۸۶۱۔