تیسری بیٹی سیدتنا زینب بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا :
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اولاد میں سے سب سے چھوٹی تھیں ۔ آپ کی والدہ کا نام حضرت سیدتنا فکیہہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے جو کہ اُمّ وَلد تھیں ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نکاح حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عبد اللہ بن سراقہ عدوی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنی بہن اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے احادیث بھی روایت کی ہیں ۔(1)
چوتھی بیٹی سیدتنا حفصہ بنت عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا :
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی لاڈلی اور بلند اقبال شہزادی ہیں ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی والدہ کا نام حضرت سیِّدُنا زینب بنت مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مقدس زوجہ ہونے کی وجہ سے اُمّ المؤمنین یعنی تمام مسلمانوں کی ماں بھی ہیں ۔رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے شعبان المعظم تین ہجری میں نکاح فرمایا۔ اس سے پہلے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضرت سیِّدُنا خنیس بن حذافہ سہمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے نکاح میں تھیں جنہوں نے جنگ بدر میں شرکت کی اور بعد ازاں جنگ بدر میں لگنے والے زخموں کے سبب مدینہ منورہ میں شہادت پائی۔ان کی شہادت کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے نکاح کی بات کی لیکن انہوں نے سکوت اختیار فرمایا۔ پھر انہوں نے حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے نکاح کی بات کی تو انہوں نے عرض کیاکہ فی الحال میرا نکاح کا ارادہ نہیں ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی شکایت بارگاہِ رسالت میں لے کر گئے تو خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’یَتَزَوَّجَ حَفْصَۃَ مَنْ ھُوَ خَيْرٌ مِنْ عُثْمَانَ ویَتَزَوَّجَ عُثْمَانَ مَنْ ھُوَ خَيْرٌ مِنْ حَفْصَۃَ یعنی اے عمر! تمہاری بیٹی حفصہ کا نکاح اس سے ہوگا جو عثمان سے افضل ہے اور عثمان کا نکاح اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاصابۃ، کتاب النساء، القسم الثانی، ج۸، ص۱۶۷، الرقم:۱۱۲۶۸ ۔
ریاض النضرۃ، ج۱، ص۴۲۶، طبقات کبری، بقیۃ الطبقۃ الثانیۃ۔۔۔الخ، ج۵، ص۱۸۸۔