Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
92 - 831
 تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے بچپن میں   نیچے گر گئے جس کے سبب اُن کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی ، لوگ اُنہیں   اٹھا کر اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی خدمت میں   لے آئے اور عرض کیا: ’’اپنے مکسر بیٹے (یعنی بھتیجے)کی طرف دیکھیے یعنی جس کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔‘‘تو آپ نے فرمایا :’’مُکَسَّرنہیں   مُجَبَّر یعنی وہ نہیں   جس کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے بلکہ وہ جس کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑ گئی ہے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی بیٹیوں   کا تعارف
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیٹیوں   کی کل تعداد پانچ ہے۔ جن کے اسماء گرامی یہ ہیں  :(۱)حضرت سیدتنا رقیہ بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا (۲)حضرت سیدتنا فاطمہ بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا (۳) حضرت سیدتنا زینب بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا (۴) حضرت سیدتنا حفصہ بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ۔ (۵) حضرت سیدتنا جمیلہ بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ۔
پہلی بیٹی سیدتنا رقیہ بنت عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا :
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی والدہ ماجدہ کا نام سیدتنا اُمّ کلثوم بنت علی بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نکاح حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن نعیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوا اور آپ ان کی حیات میں   ہی انتقال فرماگئیں   اور جنت البقیع میں   مدفون ہوئیں  ،ان سےصرف ایک بیٹی پیدا ہوئی لیکن وہ بھی فوت ہوگئی بعد ازاں   کوئی اولاد نہیں   ہوئی۔ (2)
دوسری بیٹی سیدتنا فاطمہ بنت عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا :
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی والدہ کا نام اُمّ حکیم بنت حارث بن ہشام بن مغیرہ ہے۔ آپ کا نکاح آپ کے چچا کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن زید بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوا اور ان سے ایک بیٹے عبد اللہ پیدا ہوئے۔ بعض احادیث مبارکہ میں   بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   کا تذکرہ ملتا ہے۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اسد الغابۃ، عبد الرحمن الاکبر بن عمر، ج۳، ص۴۹۳،  الاستیعاب ،عبد الرحمن الاکبر، ج۲، ص۳۸۵۔
2…تاریخ ابن عساکر، ج۱۹، ص۴۸۲، کتاب الثقات، ذکر وفاۃ رسول اللہ، ج۱، س۱۶۱۔
3…تاریخ ابن عساکر، ج۷۰، ص۲۲۵۔