Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
90 - 831
 زخم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ کی پیدائش کا ذکر ان الفاظ میں   فرما دیاتھاکہ ’’مِنْ وُلْدِیْ رَجُلٌ بِوَجْهِہٖ شَجَّۃٌ یَمْلَاُالْاَرْضَ عَدْلًا یعنی میری اولاد میں   سے ایک ایسا شخص ہوگا جس کے چہرے پر زخم کا نشان ہوگا اور وہ روئے زمین کو عدل وانصاف سے معمور کردے گا۔‘‘ایک روایت میں   یوں   ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’لَیْتَ شَعْرِیْ! مَنْ ذَوِ الشِّینَ مِنْ وُلْدِہٖ الَّذِیْ یَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً یعنی کاش! میں   اپنی اولاد میں   سے چہرے پر زخم رکھنے والے بیٹے کا زمانہ پاتا جو اپنے زمانے میں   زمین کو ایسے ہی عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے زمین ظلم وستم سے لبریز ہوگی۔‘‘حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  : ’’اِنَّا كُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ لَا یَنْقَضِیْ حَتّٰی یَلِیَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃَ  رَجُلٌ مِنْ وُلْدِ عُمَرَ یَسِیْرُ فِیْھَا بِسِیْرَۃِ عُمَرَ یعنی ہم آپس میں   گفتگو کیا کرتے تھے کہ دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک آل عمر میں   ایک ایسا شخص تشریف نہ لے آئے جو اپنے جد امجد سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سیرت وکردار کے مطابق اعمال سرانجام دے ۔‘‘(1)
(6)…چھٹے بیٹے، سیِّدُنا زید اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مکمل نام زيد بن عمر بن خطاب قرشي عدوي ہے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ ماجدہ کا نام حضرت سیدتنا اُمّ کلثوم بنت علی بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجلیل القدر تابعی ہیں  ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی حیات طیبہ کے آخری ایام میں   پیدا ہوئے۔ حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبالکل جوان تھے اس وقت مدینہ منورہ کے والی حضرت سیِّدُنا سعید بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور آپ کی والدہ دونوں  کا ایک ہی دن انتقال ہوا۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اولاد کے خادم حضرت سیِّدُنا خالد بن اسلم سے قتل خطا کے سبب آپ شہید ہوئے آپ کی والدہ آپ کی شہادت کا صدمہ نہ سہہ سکیں   اور وہ بھی انتقال فرماگئیں  ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…طبقات کبری، عمر بن عبد العزیز، ج۵، ص۲۵۴، تاریخ الخلفاء، ص۱۸۳۔
	حضرت سیِّدُنا  عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی سیرتِ طیبہ کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۵۹۰ صفحات پر مشتمل کتاب ’’حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز کی ۴۲۵ حکایات‘‘کا مطالعہ کیجئے۔