Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
89 - 831
 امیر المؤمنین نہیں   دیکھ رہے لیکن میرا رب عَزَّ وَجَلَّ تو مجھے دیکھ رہا ہے ، میں   ہر گز دودھ میں   پانی نہیں   ملاؤں   گی ۔‘‘امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہماں   بیٹی کے درمیان ہونے والی تمام گفتگو سن رہے تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھ سے فرمایا:’’ اے اسلم(رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  )! اس گھر کو اچھی طر ح پہچان لو۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ساری رات اسی طر ح گلیوں   میں   دورہ کرتے رہے۔ جب صبح ہوئی تو مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا:’’ اے اسلم(رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ )! اس گھر کی طرف جاؤ اور تمام معلومات لے کرآؤ کہ وہ گھر کس کا ہے اور وہاں   کون کون رہتاہے؟‘‘حضرت سیِّدُنا اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں  : ’’میں   اس گھر کی طر ف گیا اور ان کے بارے میں   معلومات حاصل کیں   تو پتہ چلا کہ اس گھر میں   ایک بیوہ عورت اور اس کی غیر شادی شدہ بیٹی رہتی ہے۔میں   امیر المؤمنین کی خدمت میں   حاضر ہوا اور ساری تفصیل آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے گوش گزار کردی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا: ’’میرے تمام بیٹوں   کو میرے پاس بلا کر لاؤ ۔‘‘ میں   گیا اور سب کو بلا لایا توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے فرمایا :’’کیا تم میں   سے کوئی شادی کرنا چاہتا ہے؟‘‘حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:’’ہم تو شادی شدہ ہیں  ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عاصم بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:’’ابا جان! میں   غیر شادی شدہ ہوں  ۔ ‘‘چنا نچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس لڑکی کے گھر شادی کا پیغام بھجوایا جو بخوشی قبول کرلیا گیا۔اس طرح حضرت سیِّدُنا عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شادی اس نیک پرہیزگار لڑکی سے ہوگئی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے ان کے ہاں   ایک بیٹی اُمّ عاصم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا پیدا ہوئیں   جس سے ’’عمر ثانی‘‘حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ولادت ہوئی۔(1)
سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز سیرتِ فاروقی کے مظہر:
حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پرپوتے اور مسلمانوں   کے خلیفہ بھی تھے۔بچپن میں   گھوڑے کی کاری ضرب لگانے کے سبب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی پیشانی پر زخم کا نشان تھا۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی حیات طیبہ ہی میں   آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے اسی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… عمر بن عبد العزیز ، ص۱۰۔