یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ولادت عہدِ رسالت ہی میں ہوئی تھی۔(1)
(5)…پانچویں بیٹے، سیِّدُنا عاصم بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا پورا نام عاصم بن عمر بن خطاب عدوي قرشي ہے۔سیِّد عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری سے دو سال قبل آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ولادت ہوئی۔ آپ کی کنیت ابو عمر ہے، بہت طویل قدوقامت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ عالم،فاضل ونہایت ہی متقی پرہیزگار تھے۔ بہترین شاعر بھی تھے ، کہا جاتاہے کہ نفیس کلام کرنے کا جیسا ملکہ آپ کو حاصل تھا ویسا کسی اور کو نہ تھا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بھائی حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے قبل ستر سال کی عمر میں وصال فرمایا۔(2)
آپ کی پرہیزگار زوجہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی بہوکیسے بنیں ؟
حضرت سیِّدُنااسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اکثر رات کے وقت رعایا کی خبر گیری وحاجت روائی کے لیے مدینہ منورہ کا دورہ فرمایا کرتے تھے کہ کہیں کوئی مصیبت زدہ یا مظلوم مدد کا منتظر تو نہیں ،یاکسی کی کوئی حاجت ہو تو اسے پورا فرمائیں ۔حضرت سیِّدُنا اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں بھی اس مدنی دورے میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ تھا ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہچلتے چلتے اچانک ایک گھر کے پاس رک گئے، اندرسے ایک خاتون کی آواز آ رہی تھی: ’’بیٹی دودھ میں پانی ملادو ۔‘‘ بیٹی بولی :’’امی جان! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے دودھ میں پانی ملانے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ماں نے یہ سن کر کہا:’’ بیٹی! اس وقت تمہیں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو نہیں دیکھ رہے، انہیں کیا معلوم کہ تم نے دودھ میں پانی ملایا ہے یا نہیں ، جاؤ اور دودھ میں پانی ملادو۔‘‘ یہ سن کر اس کی بیٹی خوف خدا سے بھرپور جواب دیتے ہوئے یوں گویا ہوئی: ’’اے ماں !رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں ہر گز ایسا نہیں کرسکتی کہ امیر المؤمنین کے سامنے تو ان کی فرمانبر داری کروں اور ان کی غیر موجود گی میں ان کی نافرمانی کروں ۔اس وقت اگر چہ مجھے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاصابۃ ، زید بن عمر، ج۲، ص۵۱۹، الرقم:۲۹۶۶۔
2…اسد الغابۃ، عاصم بن عمر، ج۳، ص۱۱۱۔