اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سگے بھائی ہیں اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ کا نام حضرت سیدتنا زینب بنت مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت پائی مگر آپ سے کوئی حدیث روایت نہ کی۔(1)
(3)…تیسرے بیٹے، سیِّدُنا عبید اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا مکمل نام عبيد اللہ بن عمر بن خطاب بن نفيل قرشي ہے۔زمانۂ نبوی میں ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ولادت ہوئی البتہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کوئی حدیث روایت نہ کی،اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ و امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوغیرہ اجلہ اکابر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے احادیث مبارکہ سنی۔ بہت طویل قدوقامت مالک تھے، قریش کے بہادر اور صاحب فراست لوگوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ جنگ صفین میں شرکت کی اور وہیں آپ کی شہادت ہوئی۔ (2)
(4)…چوتھے بیٹے، سیِّدُنا زید اصغر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مکمل نام زيد بن عمر بن خطاب قرشي عدوي ہے۔ (3)آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ کا نام اُمّ کلثوم ملیکہ بنت جرول ہے۔یہ مشرکہ تھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے صلح حدیبیہ کے سال طلاق دے دی تھی اور اس وقت حضرت سیِّدُنا زید بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ولادت ہو چکی تھی، اس سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تھذیب الاسماء ،عبد الرحمن بن عمر، ج۱، ص۲۸۰۔
2…اسد الغابۃ، عبید اللہ بن عمر، ج۳، ص۵۴۵۔
الاستیعاب، عبید اللہ بن عمر۔۔۔الخ، ج۳، ص۱۳۲۔
3…حضرت سیِّدُنا عبیداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وحضرت سیِّدُنا زید اصغر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں کی والدہ کا نام ’’ملیکہ بنت جرول خزاعیہ‘‘ ہے۔ (الریاض النضرۃ، ج۱، ص۴۲۵) علامہ ابن قتیبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فقط حضرت سیِّدُنا عبید اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ’’ملیکہ بنت جزول خزاعیہ‘‘کا بیٹا قرار دیا ہے۔ (المعارف، ص۷۹) جبکہ علامہ ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کو حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بھائی قرار دیا ہے۔ (الاصابۃ، ج۲، ص۵۱۹، الرقم:۲۹۶۶)