ہوئے تو بعد میں حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس کو پانی لگادیا کرتے تھے تاکہ وہ مبارک درخت کہیں خشک نہ ہوجائے۔‘‘ اپنے والد گرامی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سیرتِ طیبہ سب سے زیادہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیان کی ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتقریباًتہتر ۷۳ہجری میں ۸۴سال کی عمر میں وفات پائی۔(1)
عبد اللہ بن عمر فاروقِ اعظم کے تربیت یافتہ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! والدین کے اوصاف کا اثر ان کی اولاد میں بھی ہوتاہے، جبکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتو وہ تھے جن کی مدنی تربیت امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود فرمایا کرتے تھے، حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ عشق رسول اور سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آثار مقدسہ کی تعظیم وتوقیر اپنے والد گرامی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہی ملی تھی۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہخود ان کے لیے درازیٔ عمر کی خواہش فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا خالد بن سعید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’مَا مِنْ اَھْلٍ وَلَا وَلَدٍ وَلَامَالٍ اِلَّا وَاَنَا اُحِبُّ اَنْ اَقُوْلَ عَلَیْہِ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اِلَّا عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ اُحِبُّ اَنْ یَّبْقَیَ فِی النَّاسِ بَعْدِیْ یعنی میرے گھر والوں ، اولاد اور مال میں ہرکوئی ایسا ہے کہ میں اس پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہنا پسند کروں گا (یعنی چاہے وہ زندہ رہے یا نہ رہے)مگر عبد اللہ بن عمر کے بارے میں میں یہ پسند کروں گا کہ وہ میرے بعد بھی زندہ رہیں ۔‘‘(2)
(2)…دوسرے بیٹے، سیِّدُنا عبد الرحمن اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا مکمل نام حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عمر بن خطاب قرشی عدوی ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی شرف صحابیت پر فائز ہیں ، علامہ شرف الدین نووی، علامہ ابن عبد البر، علامہ ابو نعیم اصبہانی وغیرہ اکابر ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے آپ کو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں شمار کیا ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاصابۃ، عبد اللہ بن عمر، ج۴، ص۱۶۱، الرقم: ۴۸۵۲، تھذیب الاسماء، عبد اللہ بن عمر، ج۱، ص۲۶۲۔
2…مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب السادس والاربعون، ص۱۴۱۔