لہٰذا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو واپس بھیج دیا، البتہ غزوہ اُحُدکے بارے میں اختلاف ہے ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہعالم باعمل، مجتہد ، عابد وزاہد، سنتوں کے پابند، بدعات قبیحہ سے نفرت کرنے والے اور لوگوں کو وعظ ونصیحت فرمانے والے تھے۔ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ رَجُلٌ صَالِحٌ یعنی عبد اللہ بن عمر نیک آدمی ہیں ۔‘‘ (1)
یہ بھی کہا جاتاہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس وقت تک دنیا سے تشریف نہ لے گئے جب تک اپنے والد گرامی کی حیات طیبہ کا مظہر نہ بن گئے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے خلفاء راشدین سمیت کم وبیش تیس ۳۰صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک ہزار چھ سو تیس احادیث مبارکہ روایت کی ہیں ۔میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی نس نس میں بسی ہوئی تھی، رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشق کو علامہ نووی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں : ’’كَانَ شَدِ یْدُ الْاِتِّبَاعِ لِاٰ ثَارِ رَسُوِلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی اَنَّہُ یَنْزِلُ مَنَازِلَہُ وَ یُصَلِّیْ فِیْ كُلِّ مَكَانٍ صَلّٰی فِیْہِ وَ یُبْرِكُ نَاقَتَہُ فِیْ مُبْرَكِ نَاقَتِہٖیعنی حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع کے شیدائی تھے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جہاں تشریف فرما ہوئےیہ بھی وہیں بیٹھتے،جہاں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز ادا فرمائی یہ بھی وہیں نماز ادا فرماتے، جہاں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اونٹنی بٹھائی یہ بھی وہیں اپنی اونٹنی بٹھاتے۔‘‘(2)
گویا جس چیز کی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسبت ہوجاتی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس کی بے حد تعظیم وتوقیر فرماتے۔ علامہ نووی مزید فرماتے ہیں : ’’وَنَقَلُوْا اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ نَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَكَانَ ابْنُ عَمَرَ یَتَعَاھَدُھَا بِالْمَاءِ لِئَلَّا تَیَبَّسَ یعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں یہ بھی منقول ہے کہ ایک بار نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک درخت کے نیچے تشریف فرما
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاري، كتاب التعبير، باب الاستبرق ودخول۔۔۔الخ،ج۴،ص۴۱۴، الحديث:۷۰۱۶۔
2… تھذیب الاسماء، حرف العین المھملۃ، ج۱، ص۳۲۶۔