شخص کا انتقال ہو جاتاہے تو سوائے تین اعمال کے اس کے تمام اعمال منقطع کردیے جاتے ہیں :(۱) صدقہ جاریہ (۲) یا ایسا علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے(۳) یاوہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی اولاد کی خصوصیت:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اولاد کی ایک سب سے بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ساری کی ساری اولاد اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّمسلمان تھی۔(2)
فاروقِ اعظم کے بیٹوں کا تعارف
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹوں کی کل تعداددس ہے۔جن کے اسماء گرامی یہ ہیں : (۱) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ(۲)حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (۳) حضرت سیِّدُنا عبید اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ(۴) حضرت سیِّدُنا زید اصغر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (۵) حضرت سیِّدُنا عاصم بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ(۶) حضرت سیِّدُنا زید اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (۷) حضرت سیِّدُنا عیاض بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ(۸) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ اصغر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (۹) حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن اوسط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ(۱۰) حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن اصغر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔
(1)…پہلے بیٹے، سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ۲ بعثت نبوی میں پیدا ہوئےاور اپنے والد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ ہی بچپن میں اسلام قبول فرمایا،رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی ہونے کا شرف حاصل کیا۔تقریباً دس سال کی عمر میں ہجرت مدینہ بھی اپنے والدین ہی کے ساتھ کی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی کنیت ابو عبد الرحمن ہے۔غزوۂ بدر وغزوۂ احد کے علاوہ تمام جنگوں میں سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ شریک رہے۔غزوۂ بدر میں تو آپ کا شریک نہ ہونا اِجماعی ہے کہ اس وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبہت چھوٹے تھے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم، کتاب الوصیۃ، باب ما یلحق الانسان من الثواب۔۔۔الخ، ص۸۸۶، حدیث:۱۴۔
2…ریاض النضرۃ، ج۱، ص۴۲۵۔