Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
83 - 831
 عبیداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے ہوا۔ان سے ایک بیٹے عبد اللہ اصغر پیدا ہوئے۔(1)
(9)…حضرت سیدتنا فکیہہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  اور ان سے اولاد:
حضرت سیدتنا فكيهہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَایہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی باندی ہیں  ۔ ان سے ایک بیٹے حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن اصغر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   اور ایک بیٹی حضرت سیدتنا زینب بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا پیدا ہوئے۔(2)
(10)…حضرت سیدتنا لہیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور ان سے اولاد:
حضرت سیدتنا لہیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا یہ بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی باندی تھیں  ۔یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیٹی اُمّ المومنین حضرت سیدتنا حفصہ بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت پر معمور تھیں  ۔ ان سے ایک بیٹےحضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عمر اوسط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپیدا ہوئےاور ان ہی کی کنیت’’ابو شحمہ ‘‘ہے۔(3)
 واضح رہے کہ اسلام میں   بیک وقت فقط چار نکاح ہی ہوسکتے ہیں  ۔
تذکرۂ اَولاد فاروقِ اعظم
 اولادکا تذکرہ فضیلت سے خالی نہیں   :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَولاد کا تذکرہ اگرچہ سیرت کے لوازمات میں   سے نہیں  ،مگرجب کسی کا نسب بیان کیا جائے تو اولاد کی طرف ذہن مائل ہو ہی جاتا ہے اسی لیے اَولاد کا تذکرہ بھی فضیلت سے خالی نہیں  ۔ اولاد کا نیک ہونابھی والدین کی سرفرازی،عزت وعظمت اورفخر کا باعث ہوتاہے۔حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا: ’’اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُہُ اِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ اِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ  اَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُو لَہُ یعنی جب کسی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معرفۃ الصحابۃ، معرفۃ انہ اول من سمی امیر۔۔۔الخ، ج۱، ص۷۷، الرقم:۲۱۰۔
2…الاصابۃ ، زینب بنت عمر۔۔۔الخ، ج۸، ص۱۶۷، الرقم:۱۱۲۶۸۔
3…الاصابۃ ،لھیعۃ، ج۸، ص۳۰۲، الرقم:۱۱۷۰۸۔