Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
81 - 831
زوجہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ :’’قریبہ صغریٰ بنت ابوامیہ اُمّ المومنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بہن اور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ ہیں   اور اُن سے عبد اللہ،حفصہ اوراُمّ حكيم پیدا ہوئے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کا اپنی دو ازواج کو طلاق دینے کا سبب:
صلح حدیبیہ سے متعلقہ بخاری شریف کی ایک طویل حدیث مبارکہ میں   مذکور ہے کہ جب سورہ ممتحنہ کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی ان دونوں   مشرکہ ازواج کو طلاق دے دی: ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّؕ-اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّۚ-فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِؕ-لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّؕ-وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْاؕ-وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّؕ-وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْــٴَـلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْــٴَـلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْاؕ-ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِؕ-یَحْكُمُ بَیْنَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۱۰))  (پ۲۸، الممتحنۃ:۱۰) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اے ایمان والو جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں   کفرستان سے اپنے گھر چھوڑ کر آئیں   تو ان کا امتحان کر لو اللہ ان کے ایمان کا حال بہتر جانتا ہے پھر اگر وہ تمہیں   ایمان والیاں   معلوم ہوں   تو انہیں   کافروں   کو واپس نہ دو نہ یہ انہیں   حلال نہ وہ انہیں   حلال اور ان کے کافر شوہروں   کو دے دو جو ان کا خرچ ہوا اور تم پر کچھ گناہ نہیں   کہ ان سے نکاح کر لو جب ان کے مہر انہیں   دو اور کافرنیوں   کے نکاح پر جمے نہ رہو اور مانگ لو جو تمہارا خرچ ہوا اور کافر مانگ لیں   جو انہوں   نے خرچ کیا یہ اللہ کا حکم ہے وہ تم میں   فیصلہ فرماتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فتح الباری ،کتاب الطلاق، باب نکاح من اسلم من المشرکات، ج۱۰، ص۳۵۸، تحت الحدیث:۵۲۸۷ ماخوذا۔
	طبقات کبری، قریبۃ الصغری بنت ابی امیۃ، ج۸، ص۲۰۶ ماخوذا۔
2…بخاری،کتاب الشروط،الشروط فی الجھاد والمصالحۃ مع اھل الحرب، ج۲، ص۲۲۷، حدیث:۲۷۳۱، ۲۷۳۲۔
	فتح الباری، کتاب البیوع الی السلم، باب الصلح، ج۱، ص۲۹۰۔