Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
80 - 831
حدیبیہ کے سال طلاق دے دی۔اس سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دو بیٹے حضرت سیِّدُنا عبیداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اورحضرت سیِّدُنا زید اصغر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپیدا ہوئے۔(1)
(5)…پانچواں   نکاح اور اس سےاولاد:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا پانچواں   نکاح ’’قریبہ بنت ابواُمیہ‘‘ سے ہوا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ زوجہ مشرکہ تھی لہٰذاآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےاُسے طلاق دے دی ۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے طلاق دینے کے بعدحضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ـ نے ان سے نکاح کرلیا تھااس وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہایمان نہیں   لائے تھے۔بعد میں   صلح حدیبیہ کے موقع پر یہی ’’قریبہ بنت ابواُمیہ‘‘ اسلام لے آئی تھیں  ۔(2)
ایک اہم وضاحت:
قریبہ بنت ابواُمیہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا ام سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی بہن تھیں  ،اور فتح مکہ کے موقع پر یہ اسلام لے آئی تھیں  ۔بعض روایات میں   یہ بھی ہے کہ قریبہ بنت ابوامیہ کانکاح حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوااور ان سےحضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبد الرحمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپیدا ہوئے۔حضرت علامہ ابن حجرعسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اِرشاد فرماتے ہیں  :’’ہو سکتا ہے کہ اُمّ المومنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دوبہنیں   ہوں   اوردونوں   کا ہی نام ’’قریبہ‘‘ ہو۔ ایک بہن پہلے ہی اسلام لے آئی تھیں  اور یہی حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کے نکاح کے وقت موجود تھیں   ااور انہی سے حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے نکاح فرمایا ہو جبکہ دوسری بہن بعد میں   فتح مکہ کے موقع پر اِسلام لائی ہوں  جن سے حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے قبولِ اِسلام سے قبل نکاح فرمایا تھا۔‘‘علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی اس توجیہ کی تائید حضرت علامہ ابن سعد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے اِس قول سے بھی ہوتی ہے جسے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاصابۃ، ام کلثوم بنت علی، ج۸، ص۴۶۴، الرقم:۱۲۲۳۴۔
2…بخاری،کتاب الشروط، الشروط فی الجھاد والمصالحۃ مع اھل الحرب،ج۲، ص۲۲۷، حدیث:۲۷۳۱، ۲۷۳۲۔
	 فتح  الباری ،کتاب الطلاق، باب نکاح من اسلم من المشرکات، ج۱۰، ص۳۵۸، تحت الحدیث:۵۲۸۶۔