Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
79 - 831
نے ان کے مابین یوں   مطابقت فرمائی ہے کہ ہوسکتا ہے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ وبیٹی دونوں   کا نام ’’عاصیہ‘‘ہو اور ان دونوں   کے ناموں   کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تبدیل فرمادیاہو۔(1)
(3)…تیسرا نکاح اور اس سے اولاد:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا تیسرا نکاح حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی لاڈلی شہزادی حضرت سیدتنا اُمّ كلثوم بنت علي بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہوا۔امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو نکاح کا پیغام بھیجا اور ارشاد فرمایا: ’’زَوِّجْنِیْ یَا اَبَا الْحَسَنْ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  یَقُوْلُ كُلُّ نَسَبٍ وَصِھْرٍ مُنْقَطِعٌ  یَوْمَ الْقِيَامَۃِ  اِلَّا نَسَبِیْ وَصِهْرِیْیعنی اے علی! آپ اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیجئےکیونکہ میں   نے سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو یہ فرماتے سنا ہے کہ کل بروز قیامت ہر نسب اور رشتہ منقطع ہو جائے سوائے میرے نسب اور رشتے کے۔‘‘(لہٰذاآپ مجھے اپنا رشتہ دار بنا لیجئے)تومولا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنی بیٹی سیدتنا ام کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا نکاح آپ سے فرمادیا۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کے حق مہر میں   چالیس ہزار درہم ادا کیے۔ان سے ایک بیٹے حضرت سیِّدُنا زید اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاو رایک بیٹی حضرت سیدتنا رقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا پیدا ہوئیں  ۔حضرت سیِّدُنا زید اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیدتنا رقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   والد کی نسبت سے ’’عمری‘‘یا ’’فاروقی‘‘ ہیں  ۔ (2)
(4)…چوتھا نکاح اور اس سے اولاد:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا چوتھا نکاح ’’ملیکہ بنت جرول بن خزاعیہ‘‘ سے ہوا،  کنیت ’’اُمّ کلثوم‘‘ ہے،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ زوجہ مشرکہ تھی، اسی وجہ سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے غزوہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاصابۃ، جمیلۃ بنت عمر، ج۸، ص۷۵، الرقم:۱۱۰۱۲۔
2…الاستیعاب، ام کلثوم بنت علی، ج۴، ص۵۰۹، تاریخ ابن عساکر، ج۱۹، ص۴۸۲، الاصابۃ، ام کلثوم بنت علی،  ج۸، ص۴۶۴، الرقم:۱۲۲۳۷۔