فاروقِ اعظم کی نکاح میں حسن نیت:
(1) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’مَا اٰتِی النِّسَاءَ لِلشَّھْوَۃِ وَلَوْلَا الْوَلَدُ مَا بِالْبَیْتِ اِلَّا اَرَی اِمْرَاَۃً بِعِیْنِیْ یعنی میں صرف قضائے شہوت کی نیت سے اپنی ازواج کے پاس نہیں جاتا، بلکہ میری نیت اولاد کا حصول ہے، اگر یہ مقصود نہ ہوتا تو میری ایک ہی زوجہ ہوتی۔ ‘‘(1)
(2) ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’اِنِّیْ اُکْرِہُ نَفْسِیْ عَلَی الْجِمَاعِ رِجَاءً اَنْ یُّخْرِجَ اللہُ مِنْ نِسْمَۃٍ تُسَبِّحُہُ وَتُذَکِّرُہُ یعنی میں خود کو جماع کرنے پر اس لیے مجبور کرتاہوں کہ ممکن ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے ایسی نیک صالح اولاد عطا فرمائے جو اس کی تسبیح کرے اور ہر وقت اس کی یاد میں مگن رہے۔‘‘(2)
(3) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’كَانَ اَبِیْ اَبْیَضَ لایَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ لِشَھْوَۃٍ اِلَّا لِطَلَبِ الْوَلَدَ یعنی میرے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سفید رنگ کے تھے اور آپ شہوت کے لیے نکاح نہیں کرتے تھے بلکہ اولاد کے حصول کے لیے نکاح کیا کرتے تھے۔‘‘(3)
فاروقِ اعظم جلدی نکاح کو پسند فرماتے:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلدی نکاح کرنے کو پسند فرماتے اور اس کی ترغیب دلاتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِرشاد فرمایا: ’’زَوِّجُوْا اَوْلَادَکُمْ اِذَا بَلَغُوْا وَلَا تَحْمِلُوْا آثَامَھُمْ یعنی جب تمہاری اولاد بالغ ہوجائے تو ان کا جلدی نکاح کردو اور ان کے گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر مت اٹھاؤ۔‘‘(4)
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی کل آٹھ ازواج اور دو باندیاں ہیں ، ان سے پیدا ہونے والی اولاد کی تعداد چودہ ہے، جن میں دس بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں تفصیل درج ذیل ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…انساب الاشراف ، ج۱۰، ص۳۴۳۔
2…سنن کبری، کتاب النکاح، باب الرغبۃ فی النکاح، ج۷، ص۱۲۶، حدیث:۱۳۴۶۰۔
3…طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج۳، ص۲۴۷۔
4…مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب الستون، ص۱۹۹۔