Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
76 - 831
 عَنْہبہت ہی نیک پرہیزگار شخص تھے، آپ حضرت سیِّدُناسعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے والد گرامی ہیں   جو ان خوش نصیب صحابہ کرام میں   سے ہیں   جنہیں   دنیا میں   ہی بارگاہِ رسالت سے جنت کی خوشخبری سنادی گئی تھی۔ حضرت سیِّدُنا زید بن عمرو بن نفیل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بعثت نبوی سے قبل ہی بت پرستی کو ترک فرمادیا تھا اور سچے پکے موحد بن گئے تھے۔ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے انہی کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ’’کل بروز قیامت یہ میرے اور عیسی عَلَیْہِ السَّلَام کے درمیان ایک پوری امت کی حیثیت سے اٹھائے جائیں   گے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی والدہ حنتمہ بنت ہاشم:
سیِّدنافاروقِ اعظم کی والدہ ماجدہ کا مکمل نام حَنْتَمَہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر مخزوم ہے۔ آپ ابوجہل کی چچازاد بہن ہیں  کیونکہ ہاشم اور ہشام سگے بھائی ہیں   اور ابوجہل اور حرث ہشام کی اولاد ہیں  ، جب کہ ہاشم حَنْتَمَہکے والد اور فاروقِ اعظم کے نانا ہیں  ۔لہٰذاابو جہل آپ کا سگا بھائی نہیں   بلکہ آپ کے چچا یعنی ہشام کا بیٹا ہے۔(2)
فاروقِ اعظم کی ازواج (بیویاں  )
نکاح کرنا انبیاء کرام کی سنت ہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نکاح کرنا انبیائے کرم عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت مبارکہ ہے، بعض صورتوں   میں   نکاح کرنا واجب، بعض میں   سنت مؤکدہ اور بعض میں   مستحب ، نیز بعض صورتوں   میں   ممنوع بھی ہوتاہے، جس کی تفصیل کتب فقہ میں   موجود ہے، بہرحال کوئی بھی صورت ہو اگرنکاح سے مقصود حرام سے بچنا یا اتباعِ سُنّت و تعمیلِ حکم یا اولاد حاصل ہوناہے تو ثواب بھی پائے گا اور اگر محض لذّت یا قضائے شہوت منظور ہو تو نکاح تو ہو جائے گا لیکن ثواب نہیں   ملے گا۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی کثیر نکاح فرمائے مگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی حسن نیت کا اہتمام فرمایا جس کا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے خود تذکرہ فرمایا۔ چنانچہ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فضائل الصحابۃ للنسائی، زید بن عمرو بن نفیل، ص۸۱، الرقم:۸۴۔
2…اسد الغابۃ، عمر بن الخطاب، ج۴، ص۱۵۶، تھذیب الاسماء ،عمر بن الخطاب،  ج۱، ص۳۲۴۔