خاندانِ فاروقِ اعظم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کچھ عرصہ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ کسی شخص کی سیرت میں صرف اس کی ذات وصفات یا وہ معاملات جن کا تعلق بلا واسطہ اس کی ذات سے ہوتا صرف ان ہی کو بیان کیا جاتا اور اگر کسی کو اس شخصیت کے ایسے معاملات کے متعلق معلومات تلاش کرنا ہوتیں جن کا تعلق اس کی ذات سے بالواسطہ ہے تو وہ علیحدہ سے ان کی سیرت پر لکھی گئی کتب میں تلاش کرتا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جہاں مطالعے اور تلاشِ مواد(Data Searching)میں دلچسپی کم ہوتی گئی وہیں سیرت بیان کرنے کے انداز میں بھی تبدیلی آتی گئی۔ فی زمانہ کسی شخصیت کی سیرت کو بیان کرتے ہوئے اس کے خاندانی پس منظر کو پیش نہ کیا جائے تو کچھ تشنگی باقی رہ جاتی ہے۔عموماً خاندان میں والدین ، ازواج،اولاد، اولاد کی اولاد وغیرہ کا تذکرہ کیا جاتاہےلیکن ہم نے ان کے ذکر کے ساتھ ساتھ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے خدام کا تذکرہ بھی کیا ہے۔کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے کئی خدام ایسے ہیں جن کی سیر ت میں سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی مدنی تربیت بطریق احسن نکھر کر سامنے آتی ہے۔
فاروقِ اعظم کے والدین کا تعارف
فاروقِ اعظم کے والد خطاب بن عمرو بن نفیل:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے والد قریش کے رؤساء میں سے تھے، قبیلہ عدی اور بنو عبد الشمس میں جدی پشتی عداوت چلی آرہی تھی، عبد الشمس کا خاندان بڑا تھا اس لیے غلبہ بھی انہیں کو حاصل رہتا تھا عدی کے تمام خاندان جن میں خطاب بن عَمرو بھی شامل تھے مجبور ہو کر بنو سہم کے قبیلے میں پناہ گزیں ہوگئے۔عدی کا تمام خاندان مکہ مکرمہ میں مقام صفا میں رہتا تھا لیکن جب ان کے بنو سہم سے مراسم مضبوط ہوئے تو انہوں نے اپنے تمام مکانات ان کے ہاتھ فروخت کردیےلیکن خطاب بن عَمرو کے کئی مکانات صفا میں باقی رہے، اور ان ہی مکانات میں سے ایک مکان امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو ورثے میں ملا جس کااحادیث مبارکہ میں بھی ذکر ملتا ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے والد بت پرستی میں بڑے متشدد تھے، اسلام کی دولت سے محروم رہے البتہ ان کے بھائی یعنی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سگے چچا حضرت سیِّدُنا زید بن عمرو بن نفیل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی