کے لئے کوشش کی اہمیت کااندازہ اس سے کیاجاسکتاہے کہ حضرات انبیائے کرام اوررُسل عظام عَلَیْہِمُ السَّلَام بھی کسب یعنی حصولِ رزق کے لئے کوشش کیاکرتے تھے ۔چنانچہ،حضرت سیِّدُناآدم صفی اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گندم بوتے ،اسے سیراب کرتے ،اس کی کٹائی کرتے ،اسے گاہتے ،پھراسے پیستے ،پھراس کاآٹا گوندکر روٹی تیار فرماتے ۔ یوں آپ کھیتی باڑی کاکام کرتے۔حضرت سیِّدُنانوح نجی اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بڑھئی کا کام کیا کرتے۔ حضرت سیِّدُناابراہیم خلیل اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کپڑے بُن کرگزارا کرتے۔ حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زرہیں بناتے۔حضرت سیِّدُناسلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کھجورکے پتوں سے ٹوکریاں بنا کر فروخت کیا کرتے تھے اور ہمارے آقاومولیٰ رسولوں کے سالار ،باذنِ پروردگاردوعالم کے مالک ومختار ، شہنشاہِ ابرار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی بکریاں چرایاکرتے (اور تجارت کیا کرتے)تھے اوریہ تمام عالی رتبہ حضرات کسب کرکے ہی کھاتے تھے ۔(1)
خلفائے راشدین کے پیشے :
’’حضرات انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرح خلفائے اربعہ رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن بھی کسب کیاکرتے تھے۔ چنانچہ، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکپڑو ں کی تجارت کرتے تھے۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکھالوں کاکام کرتے تھے۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تاجر تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہخوردونوش کی اشیاء ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاکر فروخت کرتے اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم مزدُوری کیاکرتے تھے۔‘‘(1)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
المزارعۃ، باب المزارعۃ بالشطر ونحوہ، ج۵، ص۳۴۹ ، تحت الباب: ۸ ملتقطا۔
1…اصلاح اعمال، ج۱، ص۷۴۸۔
2…اصلاح اعمال، ج۱، ص۷۴۸۔