Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
72 - 831
فاروقِ اعظم کے تجارتی سفر:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے تجارتی اَسفار کا ذکر معتبر کتب سیر وتاریخ میں   بہت ہی کم ملتا ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے، علامہ بلاذری نے ’’انساب الاشراف‘‘ میں   ملک شام کی طرف آپ کے فقط ایک تجارتی قافلے کا ذکر کیا ہے۔البتہ چند ایک قرائن ایسے ہیں   جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ تجارتی حوالے سے ملک شام وعراق وغیرہ کے سفر کیا کرتے تھے۔ مثلاً:یہ بات مسلمہ ہے کہ آپ تجارت کیا کرتے تھے، اُس زمانے میں   عموماً تاجر مختلف علاقوں   کی طرف تجارتی سفر بھی کیا کرتے تھے لہٰذا آپ بھی تجارتی سفر کرتے ہوں   گے۔نیز منصب خلافت سنبھالنے کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مختلف مفتوحہ علاقوں   کے نقشے بنائے اور ان کے مختلف مقامات کی نشاندہی کی جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ان شہروں   سے واقف تھے اس کا ایک سبب ان علاقوں   میں   تجارتی سفر بھی ہوسکتے ہیں  ۔
فاروقِ اعظم اور کھالوں   کا کام:
دعوت اسلامی کے اشاعتی دارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۶۸صفحات پر مشتمل کتاب ’’اِصلاح اعمال‘‘ (1) جلد اول، صفحہ ۷۴۸پر ہے: ’’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کھالوں   کا کام کیا کرتے تھے۔‘‘
فاروقِ اعظم اور زراعت:
بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ منورہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ زمینیں   بھی بٹائی پر دیا کرتے تھے جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث مبارکہ میں   ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں   سے اس پرمزارعت فرماتے کہ اگر حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنی طرف سے بیج لائیں   تو ان کے لیے نصف پیداوار ہوگی اور اگر وہ لوگ خود بیج لائیں   تو ان کے لیے اتنا ہی ہوگا۔(2)
کسب کرنا انبیائے کرام کی سنت ہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!رزقِ حلال کمانا انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت مبارکہ ہے۔حصولِ رزق
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…’’اصلاح اعمال‘‘علامہ عبد الغنی بن اسماعیل نابلسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کی عربی کتاب ’’اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّہ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔
2…بخاری، کتاب الحرث والمزارعۃ، باب المزارعۃ بالشطر ونحوہ، ج۲، ص۸۷ ، حدیث: ۲۳۲۷ملتقطا،  ارشاد الساری،کتاب الحرث و