(8)…فاروقِ اعظم اور فن تقریر وخطابت :
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے بہترین خطیب ومقرر بھی تھے ۔اسی وجہ سے قریش کو جب کسی معاملے میں نفرت دلانی ہوتی یا کوئی فخر وغیرہ کا معاملہ ہوتا توبھی بطور مقرر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کو بھیجا جاتا۔آپ کے بہترین مقرر وخطیب ہونے کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ قریش نے آپ کو سفارت کا منصب دے دیا تھا اور یقینا اس منصب کا لائق صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جو بات کرنے میں کمال مہارت رکھتا ہو نیز بہترین خطیب ہو نے کے ساتھ ساتھ معاملہ فہمی پربھی دسترس رکھتا ہو اور آپ ان دونوں صفات کے جامع تھے۔(1)
فاروقِ اعظم کا کاروباروذریعۂ معاش
فاروقِ اعظم تجارت کیا کرتے تھے:
زمانہ جاہلیت میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مختلف فنون میں مہارت حاصل کرنے کے بعد ذریعہ معاش کی طرف توجہ فرمائی۔ پورے عرب میں زیادہ تر معاش کا ذریعہ تجارت تھا، اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی تجارت شروع کردی اور اس میں آپ نے اتنا نفع کمایا کہ آپ کا شمار مکۂ مکرمہ کے اغنیاء یعنی مالداروں میں ہونے لگا۔روایات سے یہی معلوم ہوتاہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تجارت کو جاری رکھا یہاں تک کہ آپ خلیفہ بن گئے اور بعد خلافت بھی آپ تجارت کرتے رہے۔ چنانچہ امام ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ’’کَانَ عُمَرُ یَتَّجِرُ وَھُوَ خَلِیْفَۃٌ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفہ ہونے کے باوجود تجارت کیا کرتے تھے۔‘‘(2)
گرمیوں میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بغرض تجارت ملک شام کا رخ فرماتے اور سردیوں میں ملک یمن کو اختیار فرماتے۔اور غالباً انہیں تجارتی سفروں کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات میں خود داری، بلند حوصلہ، تجربہ کاری، معاملہ فہمی، مردم شناسی، فہم وفراست جیسے باکمال اوصاف پیدا ہوگئے تھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… اسد الغابۃ، عمر بن الخطاب، ج۴، ص۱۵۷۔
2…انساب الاشراف ،عمر بن الخطاب، ج۱۰، ص۳۱۵، تاریخ الاسلام ، ج۳، ص۲۷۳۔