میں کشتی لڑا کرتا تھا؟‘‘ فرمایا: ’’جی ہاں ! میں اسی کی بات کررہا ہوں ۔‘‘ (1)
(6)…فاروقِ اعظم اور فن شہسواری :
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہسواری میں مہارت بھی ایک مسلمہ صفت ہے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہسواری میں مہارت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یَثِبُ عَلَى فَرَسِہٖ فَكَاَنَّمَا خُلِقَ عَلَى ظَھْرِہٖ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گھوڑے پر اچھل کر سوار ہوتے تو ایسا لگتا تھا کہ آپ پیدا ہی گھوڑے کی پیٹھ پر ہوئے ہیں ۔‘‘(2)
(7)…فاروقِ اعظم اور فن شاعری:
جس طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپہلوانی اور شہسواری میں مہارت رکھتے تھے اسی طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شاعری کا بھی بہت ہی عمدہ ذوق رکھتے تھے ۔’’عُکَاظ‘‘ اور دیگر مقامات پر بڑے بڑے شعراء کے کلام سماعت فرماتے، جو اشعار پسند آتے انہیں اپنے ذہن میں محفوظ کرلیتے، سینکڑوں اشعار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زبانی یاد تھے۔ اس وقت عرب کے بڑے بڑے شعراء جیسے سیِّدُنا حسان بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ، سیدتنا خنساء، سیِّدُنا قس بن ساعدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وغیرہ سے بھی آپ کی شاعری کے حوالے سے بات چیت ہوتی رہتی تھی۔جیسا کہ حضرت سیِّدُنا زبرقان بن بدر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ہجو والے مقدمے میں آپ نے سیِّدُنا حسان بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مشاورت کی ۔ہو سکتا ہے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فنِ شاعری ’’عُکَاظ‘‘ کے میلے سے ہی حاصل کیا ہو کیونکہ قبولِ اسلام کے بعد خصوصاً خلافت کے زمانے میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایسے مصروف ہوگئے تھے کہ اس قسم کے معاملات سے دُور ہی رہتے تھے۔ البتہ بعض اوقات طبیعت کے موافق کچھ شعری کلام سن لیتے تھے۔ مزید تفصیل کے لیے’’فیضانِ فاروق اعظم‘‘جلد دوم ،باب عہد فاروقی میں علمی سر گرمیاں ،ص۵۲۲ کا مطالعہ کیجئے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج۳، ص۲۴۷۔
2…الاصابۃ، عمر بن الخطاب، ج۴، ص۴۸۵، الرقم:۵۷۵۲۔